بدھ, اکتوبر 27, 2010

حکایت ہے کہ ایک آدمی کو غم سے نڈھال روتے دیکھ کر فقیر نے پوچھا کہ میاں کیوں رو رہے ہو؟ اس نے بتایا کہ میری ماں مرگئی ہے۔ فقیر بولا غم نہ کر پرسوں میری ہانڈی ٹوٹی مگر میں نے بھی صبر ہی کیا تھا تو بھی صبر ہی کر۔ آج پاؤل مرگیا، جسکا تھا اسے غم تو لازم ہوگا مگر بقول فقیر صبر کرے کہ 4 برس قبل ہماری ماں مری تو ہم نے بھی صبر ہی کیا تھا۔ آخر ک...ار

مکمل تحریر  »

پیر, اکتوبر 04, 2010

دوسری پاکستانی عورت بھی قتل

اٹلی کے شہرمودنہ میں ضلع گجرات سے تعلق رکھنے والی ایک فیملی کا خاتمہ ہوا، یوں کہ بیٹی کے رشتہ کے تناظر میں صاحب صاحب خانہ نے اپنی بیوی کو ماردیا اور بیٹی شدید زخمی حالت میں ہسپتال پہنچ گئی ، اس سارے قضیہ میں انکے بڑا بیٹا جسکی عمر تقریباُ 19 برس تھی وہ بھی اپنے اباجی کے ساتھ شامل تھا۔ اٹالین اخبارات نے حناسلیم کو فوراُ بعد حوالہ دیا کہ اس سے اس کے قتل کی یاد تازہ ہوگئی ہے، اس فیملی کے اٹھارہ برس سے کم کے اور 3 بچے ہیں۔ خیر سے جو ہو ا سو ہوا مٹی پاؤ، مگر بھائی جی مرنے والی تو مرگئی، مارنے والاسزا پاگیااور رہے گا جیل میں عمر بھر، سوال ہے کہ ان بچوں کا کیا مستقبل ہوگاجن کی ماں ماردی گئی اور باپ جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلا گیا، بھائی ماں کے قتل میں ملوث ہے تو بہن اس سارے قضئے کی وجہ ہے۔ صبح سے کئ مقامی لوگ فون کرکے پوچھ چکے ہیں کہ یہ تم لوگ کیا کررہے ہو۔ ایک اور بڑا مسئلہ ہےکہ اگر ایک اٹالین نے اپنی ماں کو گولی ماردی تو ایک خاندان کا کرائسس ہوا، اور ایک پاکستانی نے اپنی بیوی کو قتل کردیا تو سارے پاکستانیوں کو مؤرد الزام ٹھہرایا گیا۔ گویا اٹالین نے وہ حکم پڑھ لیا ہے کہ ایک انسان کو قتل کرنا ساری انسانیت کو قتل کرنے کے برابر ہے۔ کیا یہ صرف اہل مشرق پر ہی لاگو ہوتا ہے ؟؟؟

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش