جمعرات, جولائی 22, 2010

رات کو دیر سے گھر جانا

پاکستان میں تھے تو پرھنے کے دنوں میں صرف پڑھا جاتا اور ویک اینڈ پر اور چھوٹیوں میں رات رات بھر پہلے تو چھپن چھوتی (چھپنا ڈھونڈنا) اور پھر تاش کی بازیاں لگیں یار لوگ اپنی بیٹھک میں یا فارم پر یا کسی اور دوست کی بیٹھک میں تاش کےلئے براجمان ہوتے اور پھر بانگ سحر پر بھاگ لیتے، کہ بہت دیر ہوگئی ہے ماں جی سے چھتر پڑیں گے اور یہ کہ آئیندہ سے جلدی گھر جایاکریں گے، یعنی رات ایک بجے، چھتر واقعی پڑتے کہ باوجود کوشش کے کہ ماں جی کو پتہ نہ چلے دابے پاؤں چلتے مگر وہ پہلے ہی سے جاگھ رہی ہوتیں، اور بس اتنا اعلان کرتیں کہ کجنرا اس ویلے ایا ہیں، سوجا، سویرے تیرا مکو ٹھپساں(خبیث تم اس وقت آئے ہو، ابھی سو جاؤ، صبح تجھے چھترول ہوتی ہے) اور پھر صبح منہ چڑھا کر دن چڑھے جب اٹھتے اور ناشتہ کے بعد اماں سے تین چھتر اور بیس گالیاں پڑتیں۔ دوسرے دن جاتے ہیں منڈلی کو کہتے کہ بھی میں تو بارہ بجے گھر چلا جاؤں گا کہ آج بہت بےعزتی خراب ہوئی ہے۔ پس اس دن بھی جب بازیاں لگ جاتیں تو شاہ جی میرے ساتھی ہوتے اور ارشد مودی اور نیدی ہمارے مخالف، دیکھنے والے بھی پانچ ساتھ ہوتے اور یہ ساری کابینہ تھی، فیصلہ ہوتا کہ اگر تم نے جلدی جانا تو مخالفوں کو کوٹ کرو، مگر کوٹ تھا کہ ہوکر نہ دیتا اور ہم پھر تین بجے باقیوں کے ساتھ گھر جاتے اور اگلے دن پھر چھتر کھاتے۔ بہت سالوں بعد یہ روایت چلتی رہی، کابینہ کے بندے اکثر دوسرے شہروں میں پڑھنے اور ملازمت کرنے چلے گئے بشمول ہمارے مگر ویک اینڈ پر سارے گھر اور پھر وہی جمعہ کو چھتر و چھتری۔ حتٰی کہ جب ہم کالج میں لیکچرار تھے اور ایک شام کا کلینک بھی تھا تب بھی یہی روٹین رہی۔ مگر پھر صرف گالیاں پڑتی تھیں۔ عرصہ سے اٹلی میں براجمان ہیں تو یہاں پر بھی ایسے ہی رہا، رات کو جاگنے کی عادت نہ گئی، پہلے سال پڑھتے رہے اور پھر دوستوں کے ساتھ شام کو باہر نکلنا مگر یہاں پر رات کو جس وقت بھی آؤ پوچھنے والا کوئی بھی نہیں ہوتا بھلے نہ آؤ، روم میٹ کو کیا؟ اور جب پوچھنے والے گھر پر ہوں تو ہمیں باہر کیوں جانا ہے۔

مکمل تحریر  »

منگل, جولائی 20, 2010

بڑے

بڑوں کے کام نرالے ہی ہوتے ہیں اور بڑے خود بھی، ہمارے دوست خان صاحب ایتوار کو ہمارے ہاں تشریف لائے، ایک مشترکہ دوست کے ہاں فاتحہ خوانی کو جانا تھا، ٹی وی پر خبرتھی کہ چاچی ھیلیری آرہی ہیں، جبکہ لالہ ہالبروک ابھی حال ہی میں چند روز قبل واپس گیا ہے، اسی دوران انڈیا عظیم سے ایک لالہ جی تشریف لائے اور لال بھبھوکا ہوکر واپس ہولئے، میں خان صاحب کو کہہ رہا تھا کہ جب بھی ایسا لالوں کا ایک ساتھ وزٹ ہوتا ہے تو گلہ ضرور دبتا ہے یا خود پاکستان کا یا پھر پاکستان کے ذریعے کسی اور کا، اندازہ تھا کہ کسی اور کا ہی ہو۔ مگر قرعہ اپنے نام ہی نکلا، کل معلوم ہوا کہ افغانستان کو چرس، افیون اور جعلی قیمتی پتھر بڑی تعداد میں انڈیا کو دینا ضروری ہیں لہذا گزرنے کی اجازت ہے، پھر یہ کہ انڈیا نے بھی تو ادھر جاسوس، ڈانگ مار، کند ٹپ قسم کےلوگ بھجوانے ہیں تو اسے بھی اجازت ہے۔ پاکستان کو بھی کاغذوں میں اجازت ہے کہ وہ وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی کرے گا، مقر خان صاحب پوچتھے ہیں کو افغان حکومت کو خود کابل باہر اور امریکی فوجیوں کو چھاونیوں سے باہر جانے کی اجازت طالبان سے لینی پڑتی ہے، پاکستان حکومت کونسا کارڈ کھیل رہی ہے میرے خیال سے تو پاگل پن کا، آپ کے خیال میں کیا سیانی بات ہوسکتی ہے جو ملکی مفاد میں ہو؟

مکمل تحریر  »

جمعہ, جولائی 09, 2010

جعلی ڈگری والے اراکین کی سزا

جعلی ڈگریوں والے ممران پارلیمنٹ کو گنجا کرکے اور جعلی ڈگری ہاتھ میں دیکر بمعہ انتخابی نشان کے کھوتے پر بٹھایاجائے اور بازار میں پھرایا جائے ہر بندے کو درخواست کی جائے کہ وہ اسے دو جوتے مارے، تین دن کے بعد انکو گھر میں نظر بندکردیا جائے اور یہ کہ یہ لوگ ایک برس کےلئے محلے کی نالیاں صاف کیا کریں، ساری زندگی کےلئے ان پر سرکاری، نیم سرکاری ملازمت بند، کاروبار کی اجازت نہیں، پاسپورٹ ضبط اور بیرون ملک سفر پر پابندی۔ سیاست سے ہمیشہ کےلئے بلیک لسٹ، بلکل جس طرح چائنا میں جعل سازی کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے کچھ لوگ ٹی وی پر نیہایت بے شرمانا انداز میں کہتے ہیں کہ وہ قانون ہی کالا تھا اور میں اس کو نہیں مانتا، میاں نا ں مانو مگر جھوٹ بولنے والوں اور جعل سازوں کو ہم اپنا رہنما کیسے مان لیں۔؟؟؟؟ مگر پارٹیاں ہیں کہ پھر انہیں لوگوں کو ٹکٹ دے رہی ہیں بلکہ انکو مشیران خاص بھی مقرر کیا جارہا ہے۔ کہ میاں کوئی بات نیہیں ڈگری جعلی ہے تو کیا ہوا حکومت کے مزے تو لوٹو، پنجابی کا محاورہ بے شرماں دے ٹہوے تے اک جمیاں، تے کہن لگے کہ کیی ہویا یاراں نے تے چھاویں ہی بہنا ہے، یعنی بے شرموں کی پیٹھ پر آک اگا تو کہنے لگے کہ کیا ہوا یاورو کو تو سائے میں ہی بیٹھنا ہے، در فٹے منہہ ہت تیری کسے کتا رکھن والے دی

مکمل تحریر  »

سوموار, جولائی 05, 2010

اٹلی میں پہلی شاددی کی دعوت

اٹلی ایک ایسا ملک ہے جہاں خاندانی قوانین بہت سخت ہیں اور یہ کہ اس سختی سے بچنے کےلئے عوام نے شادی کرنا کم کردیا، ہمارا سابق کولیگ جوانی عمر نہیں، اس کا نام ہے جسکو انگریز جان کے پکارتے ہیں ایک دن بہت فری ہوکر بتلا رہا تھا کہ مجھے اپنی منگیتر کے ساتھ رہتے ہوئے 23 برس ہوگئے ہیں اور ہمارے 3 بچے بھی ہیں، سوچ رہے ہیں کہ ہم اب شادی کر ہی لیں، میں نے پوچھا کب تک متوقع ہے یہ شادی؟ بولا معلوم نہیں ابھی تو صرف سوچ ہی رہے ہیں ہوسکتا ہے آنے والے سالوں میں کرہی لیں۔ بہرحال ابھی تک میں کنوارہ ہی ہوں۔ یہاں پر ضروری ہے کہ یاد دلایا جائے کہ ایک عورت بغیر شادی کے اگر بچہ پیدا کرتی ہے تو اسکی مرضی ہے کہ اسکے باپ کا نام لکھوائے یہ نہیں۔ ویسے ایک بات اور بھی کہ اول تو لوگ شادیاں ہی نہیں کرتے پھر اگر کربھی لیں تو بچے نہیں اسی وجہ سے اٹلی کی شرح پیدائش چند برس قبل صفر تھی، مگر آج کل کچھ بہتر ہے کہ غیرملکیوں کے ہاں بچوں کی پیدائش بکثر ت ہورہی ہے۔ حکومت نے لوگوں کو لالچ دیا ہوا ہے کہ فی بچہ 1200 یورو ماں کو اور 8 ماہ کی چھٹیا ں بمعہ تنخواہ اور اگر بیوی جی کام نہ کرتے ہوں مطلب ہاوس وائف کو 500 ماہانہ ایک برس کےلئے۔ غیر ملکیوں کے تو مزے ہیں، بچوں کے بچے اور مفت میں یوروز بھی، یعنی چوپڑیاں بھی اور دو دو بھی، اس بارے میں کوئی کلام نہیں۔ ھیلینا ہمارے کورس کی سیکرٹری تھے جو ہم 45 کے قریب مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے بریشیا کی تاریخ اور شہر کے اہم مقامات کے بارے میں کررہے تھے، پاکستان سے واپس آیا تو ھیلینا کی ای میل موجود تھی کہ اگر میری شادی پر چرچ میں تشریف لاوٗ تو میرے لئے باعث صد افتخار ہوگا، لو جو چونکہ اس فقرہ میں بندہ کا نام تھا تو جانا لازم ٹھہرا، پھر بنگلہ دیش کے زمان کا فون کہ میں بھی جاوٗں گا تم بھی لازم چلو، برازیلین مونیکا کا اصرار کے ایک ساتھ چلیں ، بیلوروس کی اولیسیا کا بھی اصرار کہ چلو ہی چلو، پھر میری اپنی بھی خواہش بھی اور تجسس بھی کہ اٹالین لوگ شادی کیسے کرتے ہیں، سنا تو تھا مگر دیکھنے کی خواہش تھی۔بلکل قصہ حاتم طائی بے تصویر کے مصداق، اولیسیا میرے آفس میں مقر رو قت پر پہنچی اور پھر زمان ہمیں پک کرنے آگیا، مقررہ وقت پر ہم لوگ پہنچے ایریا میں ، چونکہ کسی کو بھی چرچ کی درست لوکیشن کا علم نہ تھا ، تو سوچ رہے تھے کہ کسی سے پوچھیں، ایسے میں ہی دلہن اور دلہا ایک سجی سجائی بابا قائداعظم کے زمانے کی پرانی کار میں نظر آئے ہمارے ہاتھ ہلانے پر انہوں نے پیچھے آنے کا اشارہ کیا اور ہماری گاڑی فوراُ انکے پیچھے، لو جی فوراُ انکے پیچھے آنے والی گاڑیوں نے جن پر پھول بھی لگے ہوے تھے کہ براتی ہیں ہارن بجانا شروع کردئے، گویا کہ رہے ہوں، اوئے تہاڈا کجھ نہ رہے تسیں کتھوں آوڑے ہو۔ چرچ میں 2 گھنٹے پر مشتمل تقریب تھی جس میں میوزک بھی تھا، دعائیہ مجلس بھی اور پھر دلھا دلہن نے ایک دوسرے کو سب کے سامنے قبول کیا اور اچھے برے حالات میں ایک ساتھ رہنے کی قسم کھائی، ایک دوسرے کو انگوٹھیاں پہنائیں اور پھر پادری صاحب کی طرف سے اذن ہوا کہ اب دلھا دلھن ایک دوسرے کا بوسہ لیں، اس سے پہلے بھی وہ بوسے لے ہی رہے تھے مگر اس کو مقدس بوسے کا نام دیا گیا، پھر نکاح نامہ پر دستخط اور کا م ختم، آخری تقریب نو بیہاہتہ جوڑا پر چاول پھینکنے کی تھی، لوگ جلدی سے باہر نکلے اور چاولوں کے پیکٹ کھول کر کھڑے ہوگئے جس کے پاس ہماری طرہ نہیں تھے انکو دائیں بائیں سے امداد مل گئی ، بس یار لوگ تاک میں کھڑے ہوگئے جونہی دولھا دلھن باہر نکلے تو ہر بندہ بچہ بن گیا،، خوب کس کر انکو چاول مارے گئے ، کوئی کہہ رہا تھا کہ اسے بچے ذہین پیدا ہونگے ، اگر ہوئے تو، پھر مبارک بادیں اور معانقہ اور پھر اپنے اپنے کام پر، جس کے پاس زیادہ وقت تھا وہ انکے ساتھ ایک بار میں ڈرنک پینے اور جام ٹکرانے چلا گیا۔ ہم تو سدا کے عدیم الفرصت ٹھہرے

مکمل تحریر  »

ہفتہ, جولائی 03, 2010

مذہبی مقامات پر افراتفری

فرقہ واریت ایک المیہ ہے اور اس سے بھی بڑا المیہ ہمارے ملک کا یہ ہے کہ ہمارے ہاں اسے تن آسانی کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ جہاں پر بھی کوئی دہشت گرد ی کا واقعہ ہوا حاکم وقت نے اسے القائدہ، طالبان، فلاں لشکر، فلاں جماعت، اور فلاں فرقہ پر ڈال کے ہاتھ جھاڑ لئے، کوئی ان سے پوچھے میاں سب مان لیا مگرکوئی ثبوت؟ کسی ذمہ دار کو سزا؟

کچھ بھی نہیں، گزشتہ سالوں سے آپ بھی دیکھ رہے ہیں میں بھی۔ یہاں مسجد میں جمعہ کاشنکوف کے سائے تلے، جنازہ پر جامہ تلاشی، امام بارگاہ میں اور چرچ میں بندوق بردار بندے، مگر کسی سیاسی جلسہ میں دھماکہ نہیں ، کسی شادی بیاہ میں دھماکہ نہیں البتہ، مزاروں پر ، مسجدوں میں، مدرسوں میں ضرور ہوتے ہیں۔

لاہور داتا صاحب کے مزار پر ہونے والے دھماکے بھی اس سلسلہ کی ایک کڑی دکھتے ہیں، کہ پاکستانی عوام چونکہ اکثریت سے مذہبی ہے اس لئے مذہبی مقامات پر افراتفری پیدا کرکے ان لوگوں میں انتشار پھیلایا جائے۔

اس سے کہیں یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ ایسی قوتیں ہیں جو اس ملک میں مذہب اور مذہبیوں کو بدنام کرنے پر تلی ہوئی ہیں اور کہیں انکا مقصد صرف اہلیان مذہب کو منتشرکرکے ملک میں افراتفری پھیلانا تو نہیں تاکہ وہ اپنے مذموم مقاصد پورے کرسکیں، اس میں صرف ملک دشمن قوتوں کو ہی فائدہ ہوسکتا ہے۔ اور بھارت، امریکہ ، اسرائیل سے زیادہ کوئی اور بڑا دشمن نہیں،

جو دوست نما بھی ہیں۔ دوست ہوئے جسکے تم دشمن اسکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بقول چچا سعید کے انکا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ جو آپ کے پاس کچھ پٹاخے پڑے ہوئے ہیں وہ لےجائیں اور بس، پھر ہم تو دوست ٹھہرے بس تم خالی ہاتھ اور ہم ہمیشہ کی طرح ہتھیار بند

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش