جمعہ, اپریل 16, 2010

اور کھلا ایک پھول

مکمل تحریر  »

چن

چن پنجابی کا لفظ ہے جس کو اردو میں چاند کہاجاتا ہے، ایک کثیر المطالب لفظ ہے۔ وہ چن جس کے دکھائی دینے اور نہ دینے پر مولویوں میں جھگڑا ہوجاتا ہے، زمانے گزرگئے مگر اتفاق نہ ہوسکا، حد تو یہ کہ ایک ہی شہر میں مختلف لوگ چن کو دیکھ لیتے ہیں اور کچھ نہیں دیکھ پاتے اور دوسروں پر یقین بھی نہیں کرتے، جس نے دیکھ لیا اسکی عید ہوگئی، اور جو نہ مانا وہ روزے سے گھوم رہا ہوتا ہے اور اپنی جان کو اور دوسروں کی نظر کو کوس رہا ہوتا ہے۔ اس بارے میں فرققہ بھی بن جاتا ہے اور حد تو یہ ہے کہ لنڈن جیسے شہر میں سنا ہے کہ 3 یا 4 چاند نظر آنے کی روایت عام ہے۔ اس سلسلہ میں کہا جاسکتا ہے کہ اپنا اپنا چن چڑھاوٗ۔ پھر ایک اور قسم جو محلے کی عورتیں گالی کی مد میں استعمال کرتی ہیں کہ یہ لڑکی ضرور کوئی چن چڑھائے گی، اور اسکے فوراُ بعد ہاتھا پائی شروع ہوجاتی ہے۔ آپ کسی کو نہ کہہ بیٹھنا ورنہ حثیت ازالہ عرفی کا اندیشہ ہے اور ہتک عزت کے مقدمہ میں عدالت سے بلاوا بھی آسکتا ہے۔ یہ عموماُ غریب لوگوں کا چن ہوتا ہے ایک اور قسم چن کی جسکے بارے میں روایت ہے کہ وہ قیامت سے پہلے دو ٹکڑے ہوجائے گا،ا س مقصد کےلئے وہی چن استعمال ہوگا جس کے نظر آنے اور نہ آنے کا جھگڑا علمائ میں آج بھی چل رہا ہے، کوئی دوسرا چن دستیاب نہیں ہے۔ پھر ایک اور چن جسکو چندا ماموں بھی کہا جاتا ہے اور اکثر دور کے ہی ہوتے ہیں، جیسے ہم اپنے بھانجیوں بھانجوں سے دور ہیں، تو ہو سکتا ہے وہ بھی ہر نئے چاند پر کہتے ہوں چندا ماموں دور کے، اس بارے میں ہم اپ کو خاصا خوش نٖصیب سمجھتے ہیں۔ پھر ایک چن ماہی بھی ہوتا ہے جسکا پنجابی کی شاعری میں بہت استعمال ہوتا ہے اور صرف معشوق کو ہی نہیں بلکہ دوست بھی کہا سکتا ہے، کچھ لوگوں کا تو تکیہ کلا م بھی یہی ہے، چن ماہی توں کل فون کریں۔ میرا چن پتر ماں اپنے کالے کلوٹے بیٹے کو کہہ رہی ہوتی ہے، بقول پطرس بخاری دن چڑھےاسکا منہ دھلواتی ہے اور جی کڑا کر کہتی ہے میرا پتر تے چن ورگا لگدا ہے، اسی طرح سے چن مکھناں بھی ہے مگر اسکا کھانے والے مکھن سسے کوئی تعلق نہ ہے، ہوسکتا ہے کہ لگانے والے مکھن سے ہو، بلکہ یوں کہہ لیں کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور۔ چن مکھنا اکثر پرانی بوڑھیاں، نانیاں، دادیاں استعمال کرتی ہیں، نہائیت بے ضرر بات ہے، البتہ اگر کوئی معشوق ٹائپ کی جوان لڑکی آپ کو کہہ دے، تو ضرور خوش ہو لیں، ہوشیار رہئے گا کہ اگر کسی اور نے سن لیا تو سمجھے گا کہ ضرور دال میں کچھ کالا ہے۔ ایک اور چن ہمارے ایک دوست تخلص کرتے ہیں، شاعر تو خیر سے نہٰیں مگر صاحب تخلص ضرور ہیں، البتہ بقول شاعر انکا تکیہ کلام ہے ، نثر بیان کرنے پر بھی کہ دیتے ہیں کہ بقول شاعر میں کل میلانو جاوٗں گا، اپنے آپ کو صحافی کہلوانا اچھا سمجھتے ہیں اور اگر آپ انکو چن صاحب کہہ کر نہ بلوائیں تو ناراضگی کا بھی اندیشہ ہے، اس طرح کے دوست کہ میرا فون نہیں اٹھائیں گے اور ساتھ میں ہوں تو سارا وقت فون پر بات کرتے ہوئے گزار دیں گے، کسی اور کے ساتھ۔ پر کہا جا سکتا ہے کہ دوست ہوئے جس کے تم دشمن اسکا آسمان کیوں ہوا کرے، یہاں تم سے مراد چن ہے۔

مکمل تحریر  »

منگل, اپریل 06, 2010

عجیب دن

آج میرے لیے بہت عجیب دن ہے، کوئی بھی کام کرنے کو دل نہیں کر رہا اور نہ ہی کسی کلائنٹ کو سرو کرنے کا، فواد میرا دوست کہ الجیریہ کا ہے، میرا دماغ کھا رہا ہے، دل کرتا ہے کہ اسے اٹھا کر باہر پھینک دوں

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش