منگل, ستمبر 07, 2010

چرچ میں نماز

چرچ میں افطار پر کوئی 200 کے قریب بندے مدعو تھے، پروگرام کا اہتمام چرچ کے ملحقہ تقریباتی ہال میں تھا، ان میں زیادہ تعداد عربی انسل مسلمانوں اور اطالوی نو مسلم کی تھی، پھر مسلمانوں کے ساتھ انکے غیر مسلم دوست بھی جوکہ زیادہ تر اطالوی ہی تھے۔ پھر چرچ سے تعلق رکھنے والے افراد ، جن میں اہم اس چرچ کے پادری، ایک اور چرچ کے نمائندہ بھی تھے۔ افطار پانی اور کھجوروں کے ساتھ ہوا اور ساتھہ ہی چھوٹے سے اسپیکر پر اذان کی آواز گھونجی ایک ساتھ نے فوراُ بعد اطالوی میں ترجمہ کیا اور ایک کونے میں چادریں بچھا کر باجماعت نماز کی اقامت شروع اور پھر ایک ہوئے محمود و ایاز۔ تین رکعت نماز کے بعد کھانے کا اہتمام تھا، جس میں مروکینی شوربہ، تیونس کی کس کس، پاکستانی بریانی، مصری ابلا ہوا گوشت، فلسطینی زیتون مرغی وغیرہ وغیرہ ، کھانے کے بعد تقریریں شروع ہوگئیں، ایک خاتون نے اسلام میں روزہ کی اہمیت بیان کی، پھر چرچ کے پادری صاحب نے اپنے مذہب میں روزہ کے بارے بیان کیا، پھر کونسل کے سابق امیگریشن کے کونسلر نے مختلف مذاہب کی ہم آہنگی کی ضرورت بارے بیان کیا۔ پروگرام آپنے اختتام کو پہنچا اور سب اپنے اپنے گھروں میں۔ ہمارےپیارے پاکستان میں شاید شعیہ، سنی وہابی و دیگر فرقوں سے تعلق رکھنے والے ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے ہیں اور ایک دوسرے کی عبادت گاہ میں نماز پڑھنا تو درکنار انکوچلادینے اور وہاں کے عبادت گزاروں کو قتل کرنا باعث ثواب سمجھتے ہیں۔ کہیں ہم نے اپنے مذہب کی باہمی رواداری اور بھائی چارہ کو ترک تو نبہیں کردیا اور کہیں ہم اپنے دین کی اصلی تعلیمات کو بھلا تو نہیں بیٹھے

6 تبصرے:

  • کاشف نصیر says:
    9/07/2010 06:08:00 PM

    ویسے کہاں کہاں ساتھ بیٹھنا چاہتے ہیں۔ ۔ اللہ نہ کرے کہ کہیں ساتھ بیٹھنے کی آپ کی دعا کہیں قبول نہ ہوجائے

  • کاشف نصیر says:
    9/07/2010 06:18:00 PM

    عطاء جی ویسے آپ کہاں کہاں ساتھ بیٹھنا چاہتے ہیں اور کتنا ایک ہونا چاہتے ہیں۔ خیر خیر بولیں کہیں واقعی اللہ آپ کو ساتھ نہ بیٹھا کر ایک نہ کردے۔ پہلے مسلمانوں اور پاکستانیوں میں تو ایکا پیدا کرلیں پھر بات کریں گے عالمی بھائی چارے کی۔

  • کاشف نصیر says:
    9/07/2010 06:18:00 PM

    عطاء جی ویسے آپ کہاں کہاں ساتھ بیٹھنا چاہتے ہیں اور کتنا ایک ہونا چاہتے ہیں۔ خیر خیر بولیں کہیں واقعی اللہ آپ کو ساتھ نہ بیٹھا کر ایک نہ کردے۔ پہلے مسلمانوں اور پاکستانیوں میں تو ایکا پیدا کرلیں پھر بات کریں گے عالمی بھائی چارے کی۔

  • عادل بھیا says:
    9/07/2010 07:37:00 PM

    ہمارے مُلک کی جو آپنے بات کی اس میں میرے خیال سے زیادہ قصور ہمارے مولوی حضرات کا ہے۔ جو لوگوں کو بھڑکاتے ہیں۔ واضح رہے کہ سب ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اچھے بُرے لوگ ہر جگہ نہیں ہوتے۔ اور میں نے یہ دیکھا ہے کہ ان میں سے چند افراد ایسے ہیں جو حد سے زیادہ جزباتی ہو کر کفر کے یہ فتوے دینے لگ جاتے ہیں۔
    آپنے اپنی طرف سے اچھی کاوش کی۔ ہم سب کو اسی طرح محبتیں اور آگاہی بانٹنی چاہئیے۔

  • عطاء رفیع says:
    9/09/2010 04:18:00 PM

    بالکل درست کہا آپ نے۔۔۔ ویسے میں نشان زد نہیں کروں گا۔ یااللہ ہم اوروں کے اشاروں پر ناچنے کے بجائے اپنے دماغ کو کب استعمال کریں گے جسے آپ نے سنبھال کر رکھنے کے بجائے یہ کہا "کہ مؤمنین عقل سے کام کیوں نہیں لیتے۔"

  • raja says:
    10/10/2010 09:13:00 PM

    bro u mean k humein doosroon firkon waley logon se b mil jul kr rahna chahye
    but main ne to ye be suna hai k muslims or christaian aps mein jazab nhi ho skte

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش