اتوار, جنوری 25, 2009

شادی ایک اختیاری رشتہ

شادی وہ واحد قانونی رشتہ ہے جو انسان کے ساتھ پیدائشی نہیں ہوتا، ورنہ بہن، بھائی، والدین، اولاد، چچا، کزن، ان سب کو اختیار کرنا کسی بھی انسان کے اختیار سے باہر ہے، بلکہ جب ہم پیدا ہوتے ہیں تو یہ رشتے چاہتے نہ چاہتے ہوئے ہمارے ساتھ ہوتے ہیں، اسی طرح اگر کوئی فوت بھی ہوجائے تو یہ ہی کہاجاتا ہے کہ فلاں کا باپ، بہن، خالہ یا کزن فوت ہوگیا ہے، گویا رشتہ بہر صورت برقرار ہے۔
مگر شادی کا رشتہ ایسا ہو کہ جب چاہا ختم کردیا، تین طلاق اور میاں بیوی غیر ہوگئے۔ باوجود اس نا پائیداری کے شادی سب سے زیادہ قربت کا رشتہ ہے۔ ہر رشتہ میں کچھ حدود ہوتی ہیں مگر میاں بیوی کا ایسا قربت کا رشتہ ہے کہ انکے درمیان کچھ بھی تو نہیں ہوتا، گویا شادی دو بندوں کے ایک ہونے کا نام ہے۔
ہم ساری زندگی میں زمداریوں سے نبرد آزما رہتے ہیں تو پھر اس زمہ داری سے گھبرانے کا مقصد؟میں تو کہتا ہوں کہ جنہوں ابھی تک شادی نہیں کی وہ کرلیں اور جو کرچکے ہیں اس پر قائم رہیں، مجھے ذاتی طور پر ہمیشہ دکھ ہوتا جب سنتا ہوں کہ فلاں فلاں میں علیحدگی ہوگئی ہے۔
شومئی قسمت کہ رہتا بھی ایسے معاشرے میں ہوں جہاں اول تو شادی ہوتی ہیں نہیں ہے اور اگر ہوجائے تو ہنی مون پر طلاق کی بات شروع ہوجاتی ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے انسان کو سارے رشتے ختم کرنے کا اختیار نہیں دیا ورنہ۔۔۔۔۔۔

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش