جمعرات, جولائی 31, 2008

اٹلی میں اسلامی اقدار

آج کے اخبار کے مطابق شہر کے تمام عوامی مقامات پارکوں ، سڑکوں، سڑکوں پر بنچوں اور دیواروں پر بیٹھ کر شراب نوشی کی سختی سے ممانت ہوگی، ایک سو تیس یورو سکہ رائج الوقت جرمانہ ہوگا۔
میں عمر سے بات کررہا تھا۔ کہ میاں عمر یہ لوگ تو مسلمان ہوتے جارہے ہیں، شراب نوشی ممنوع، عورت اگر ننگی بھی گھوم رہی ہوتو کسی کی جرات نہیں کہ ہاتھ لگا جائے۔ 18 برس تک تعلیم فرض، ٹیکس کاٹتے بھی ہیں اور رفاع عامہ کے کام بھی ہورہے ہیں، غیر سودی بنکنگ پر تیزی سے کام ہورہا ہے اور بہت سے بنکوں نے آفرز بھی دینی شروع کردی ہیں جو نفع نقصان کے اشتراک پر مبنی ہیں، ادارے ہیں جو فلاحی کاموں میں سر توڑ مشغول ہیں، غریب، یتیم، بیوہ، لاوارث بچے و بڈھاس کےلئے الگ سے رہائیش اور کھانے پینے کے ادارے ہیں جن کی سرپرستی حکومت کرتی ہے یا ترغیب دیتی، یاد رہے کہ پنشن اور کفالت کا نظام حضرت عمر فاروق رضی اللہ کا مروج ہے جس کو ہمارے ممالک میں ترک کردیا گیا ہے۔ جھوٹ اور غیبت نہ ہونے کے برابر ہے، قتل سال کے سال ہوتا ہے اور وہ سال بھر ٹی وی پر رہتا ہے۔ پھر معلوم ہوتا کہ اتفاق تھا یا قاتل ذہنی مریض، چوری کی وارداتیں ہردوسرے برس ہوتی ہیں۔ یہ تو تھے اجتمائی فرائض جن سے افراد و اقوام پر اثر پڑتا ہے۔
رہ گئی بات انفرادی معاملات کی کہ نماز پڑھنا، روزہ رکھنا حج کرنا ہر بندے کا اپنا فعل ہے جس میں دوسرون کو علاقہ نہ ہے۔ہمارے معاملات الٹ ہیں، نماز، روزہ حج زور شور سے اور تعلیم، شراب، عورتوں کا تحفظ، سود، جھوٹ، غیبت، ٹیکسیوں کی عدم ادائیگی، اداروں کا عدم وجود، بے ایمانی تمام اجتمائی برائیاں، چوریاں، قتل۔ آخر ہم کونسے مذہب کی پیروی کررہے ہیں، مولوی صاحب اس بارے کچھ بتلا کے نہیں دے رہے۔ اسلام نے چودہ سو سال پہلے پڑھنے لکھنے کاانقلاب دیا۔ عورت جو دفن کی جاتی تھی وراثت کی حقدار قرار پائی۔ جب دنیا تعیلم کے نام سے بھی واقف نہ تھی۔
ہم نے کیا کیا اسلام جیسے انقلاب کو چودہ سو سال پہلے کے کھونٹے سے باندھ دیا۔ آج انگریز چاند پر چہل قدمی کررہا ہے اور ہم دعاکرتے ہیں کہ یااللہ خیرسے چڑھے، وہ ادھر مکان بنانے کو ہے اور ہم اسکے نمودار ہونے اور نہ ہونے پر جھگڑرہے ہیں۔ چند ہفتے پہلے اسی موضوع پر مولوی صاحب دعوہ دار تھے کہ قرآن مجید میں ہمیں چودہ سو برس پہلے ہی چاند ستاروں کے مسخر کرنے کے بارے میں بتایا تھا۔ میں نے کہا میاں مسخری نہ کرو اگر تمھیں معلوم تھا تو انکو تسخیر کیا کیوں نہیں؟ آپ بتائیں؟

مکمل تحریر  »

جمعہ, جولائی 25, 2008

مسجد سے جوتے چرانا

مسجد سے جوتے چرانا ایک ایسا فعل ہے کہ سب اسے برا جانتے ہیں مگر ہورہا ہے۔ اب تو خیرسے پنکھے اور ٹونٹیاں بھی اترانا شروع ہوگئی ہیں ۔ چرسی پارٹی کا کام ہے۔ جب ہم نئے نئے کالج میں داخل ہوئے تو گرمیوں کی چھٹیوں میں ایک دوست کہنے لگے کہ میاں رات واعظ ہے سننے چلیں، گے ساتھ والے گاؤں میں، گھروالوں کو بتلایا تو بہت خوش ہوئےکہ میاں جوانی میں نیک کام، اللہ سب کو ایسی سعادت مند اولاد دے۔ واعظ سنی، بڑا مزاہ آیا، مولوی صاحب جوان اور قد کاٹھ کے بندے تھے، بہت خوب بولے۔ واپسی پر یہی باتاں ہورہی تھیں کہ شاہ جی کہتے ہیں یار یہ مولوی بہت شہدا بندہ ہے۔ ہیں؟ کیوں شاہ جی کیاہوا؟ بھئی دیکھو اتنے قد کاٹھ کا بندہ اور چھوٹا سا پاؤں ہے اسکا۔ مگر شاہ جی آپ کو کیا مطلب اسکے پاؤں سے۔ فرمانےلگے دیکھو اس موئے کی جوتی ہی میرے پاؤں میں نہیں‌ آرہی۔ ہاہاہا میرا جوتا شاہ جی سے بھی ایک سائز بڑا ہوتا ہے۔

مکمل تحریر  »

جمعرات, جولائی 24, 2008

دماغ کا استعمال

پی آئی اے کی ٹکٹس کم سے کم دو سو یورو کم قیمت پر بکتی رہی ہیں، ابھی معلوم ہوا کہ ساری ری فنڈ ہوچکی ہیں، مطلب مسافر کو معلوم ہی نہیں، اور جس نے ٹکٹس بنوائیں، پیسے واپس لے لئے۔ فرض کریں اگر دو سو ٹکٹس ہوئیں تو 800 یورو فی ٹکٹ ریفنڈ ہوگا۔ کل ملا کے 160000 یورو ہوئے، جوپاکستانی سکہ رائج الوقت کے مطابق تقریباُ 16000000 ہوئے، کوئی مال بنا گیا ہے۔ میں تو اس بندے کے دماغ پر رشک کر رہا ہوں۔ یہ ہے آج کا واقعہ یا ہوسکا ہے واقع ہی ہو۔

مکمل تحریر  »

منگل, جولائی 08, 2008

بوٹی

بوٹی کی تین قسمیں ہوتی ہیں اول وہ جو جڑی بوٹی کہلاتی ہے اور اکثر حکماء معالجات میں استعمال کرتے ہیں، بعض تو یہ کہتے بھی سنے گئے ہیں کہ جی یہ بوٹی ہمارے دادا جان کہیں سے لائے تھے، بھلا کوئی پوچھے کہ آپ کے دادا کو مرے 60 برس ہوئے اب بھی اس میں اثر ہوگا؟
دوئم بوٹی کی وہ قسم ہے جو ہم امتحانات میں استعمال کرتے تھے اور اکثر غلط سوال لکھ کر بوٹی کے نام سے اگلے دی جاتی اور وہ اس سے اگلے کو دیتا پس سب کا خانہ خراب، ہمارے وقتوں میں خیر سے بوٹی مافیا بھی تھی میڈیسن کے سالانہ امتحانات میں بڑی کمائی ہوتی۔ پس وہ ڈاکٹر صاحبان بھی ساری زندگی بوٹی ہی چلاتے۔
بوٹی کی سوئم قسم گوشت بوٹی ہے اور اکثر کتوں کو لڑانے کےلئے استعمال ہوتی ہے۔ آپ ایک بوٹی لے کر دو کتوں کے درمیان ڈال دیں اور بیٹھ تماشہ دیکھیں، خیر کتے کا شمار تو حیوانات میں ہوتا ہے مگر یہاں تو مولوی صاحبان بھی بوٹی پر لڑتے دیکھے گئے ہیں، جن کی ایک زندہ مثال ہمارے مولوی صاحب ہیں، جو بوٹی نہ ملنے پر جھگڑا کرتے ہیں اور ملنے پر ایک اور کا تقاضا کرتے ہیں۔ آج مولوی صاحب کو بوٹی کی وجہ سے کئے گئے جھگڑے کی وجہ سے اپنا ٹھکانہ تبدیل کرنا پڑا۔ پس تجربہ سے ثابت ہوا کہ بوٹی انسان اور کتے کو ایک مقام پر لا کر کھڑا کردیتی ہے۔

مکمل تحریر  »

بدھ, جولائی 02, 2008

بیمار ہونا ڈاکٹر جی کا

اور آخر یہ دن بھی آنا ہی تھا کہ آج مجھے بھی دوسروں کو ٹیکے لگا تے لگا تے خود کو ٹیکہ لگوانا پڑا، وہ بھی رمضانی سے، جوکہ بقول اسکے بھینسوں کو ہی ٹیکے لگاتا رہا ہے، اور مجھے بھی بھینس کی مانند ہی ٹیکہ لگے گا۔ خیر بتلانے اور سمجھانے کے بعد ٹیکہ تو لگ گیا اب اللہ خیر ہی کے۔
یہاں پر ٹیکہ لگوانے کے خصوصی مراکز ہیں جہاں پر جا کر آپ ٹیکے لگوا سکتے ہیں مگر پہلے سے وقت لو بھلے 4 دنوں کے بعد ملے اور تب تک آپ ٹھیک ہوچکے ہوں یا پھر احباب جنازہ کا اعلان کر رہے ہوں اور میت وطن واپس بھجوانے کے نام پر چندہ اکٹھا ہو رہا ہو، خیر میری تو انشورنس ہے، امید ہے کہ احباب کو چندہ کرنے کی نوبت نہیں آئے گی۔
دل پر لینے کی کوئی ضرورت نہیں کیوں کہ گھٹنے میں کچھ سوزش ہوئی ہے۔ یورک ایسڈ کی وجہ سے امید ہے کہ چند دنوں تک بندہ پھر سے کودنے کے قابل ہوجائے گا۔ گویا بڈھوں والے امراض، خیر بقول فیاض بھائی کہ ہم جوان کب تھے کسی نے مجھے کبڈی کھیلتے دیکھا، ہاکی فٹ وغیرہ، ہوش سنبھالی تو بھائی جان تھے، پھر چاچو اور اب ابا جان ہوچکے ہیں ۔
اور یہ کہ یہ مسئلہ کوئی عرصہ بیس برس سے چکل رہا ہے۔ پس تاش کھیلنے کی ہی مشقت ہوتی رہی ہے یا پھر شطرنج۔

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش