بدھ, فروری 20, 2008

کچھ اقوال روم سے

نوٹ یہاں روم سے مراد نہ تو سلطنتِ روم ہے اور نہ ہی مولانا روم بلکہ روم شہر ہے جو اٹلی کا دارالخلافہ ہے اور جہاں رومن زبان بولی جاتی ہے اصل اقوال کےلئے آپ میرے اطالوی بلاگ پر رجوع فرمائیں۔ کام کے بعد بندہ تھک جاتا ہے
کام کا لفظ گلے میں اٹکتا ہے
دن آرام کو بنا ہے اور رات سونے کو
آرام کرنے والے کی مدد کرووہ آج نہیں کرسکتے جو کل ممکن ہے
زندگی میں کم سے کم کرنے کی فکر کرو اور یہ کم بھی کسی اور سے کروانے کی
اگر تمھیں کام کرنے کی خواہش ہو تو بیٹھ کر انتظار کرو کہ ختم ہوجائے
زیادہ آرام سے آج تک کوئی نہیں مرا
جو تھک جاتا ہے وہ موت کے زیادہ قریب ہوجاتا ہے۔ اتنا کام مت کرو کہ تھک جاؤ
جب تک صحت ہے کام ہے، بیمار بن جاؤ
ایک سخت قانون کی سخت کم کرنے بہتر طریق اس کو آہستہ آہستہ پیش کرنا ہے یا اس کو نرم بنانا۔
نوٹ: قدیررانا کو مذید شکایت نہیں کرنا چاہئے کہ میرے بلاگ پر اپ ڈیٹ نہیں ہوتے۔

مکمل تحریر  »

نوواردوں کو مفت مشورے

ہمارے دل عزیز پروفیسر ڈاکٹر ملک منظور الٰہی طاہر کا قول زریں تھا کا بغیر کہے مشورہ اور مفت کا مشورہ بندے کی عزت کم کرتا ہے کہ عمل کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔
صاحبو آج ہم بھی اپنی عزت کے درپے ہیں۔ مطلب کچھ مفت کے مشورے دینے کو چلے۔ کر لو گل
تو اٹلی میں آنے والے جملہ اصحاب کان کھول کر، آنکھیں بند کرکے اور دل پر ہاتھ رکھ کر پڑھنا شروع کیجئے اور رفع شر کےلئے مبلغ آٹھ ہزار اطالوی سفارتخانہ کی نذر کیجئے۔ اطالیہ کو عازم سفر ہونے سے پہلے آپنے آپ کو خوش قسمت جانئے کہ آپ کو ایک پروگرام کے مطابق ہجرت کا موقع مل رہا ہے۔ پس صاحبو تیاری کرتے ہوئے نئے کپڑوں اور بیگ کی خریداری کے ساتھ ساتھ کچھ ہنر سیکھئے۔
یہاں پر صنعت بہت زیادہ ہے۔ لہذا ہر وہ کام یا ہنر جو اس زمرہ میں آتا ہو، آپ سیکھ سکتے ہیں۔ ویلڈنگ، خراد، کمپوزنگ و ڈیزائننگ کے پروگرام۔ کاد، کام وغیرہ وغیرہ۔ ممکن ہو تو اطالوی زبان کے بنیادی کورس کیجئے کہ انگریزی آپ کے کام نہیں آنے کو، اور مقامی زبان آپکی مشکلات آسان کرے گی۔ ہاں اگر اطالوی کے کورس دستیاب نہ ہیں تو انگریزی بول چال کے تین کورس دافع بلیات کا کام دیں گے۔ اٹلی کے جغرافیہ کے بارے میں بنیادی معلومات آپ کے رسل وسائل میں معاون ہونگی۔
اگر آپ تعلیم یافتہ ہیں تو اپنی جملہ اسناد کوشش کرکے اطالوی سفارتخانہ سے تصدیق کروالیں ورنہ ادھر کوئی نہیں پوچھتا اور آپ کو آٹھویں جماعت کا امتحان بلکل اسی طرح دینا پڑے گا جیسے میں نے سن 2000 میں دیا تھا۔ یونیورسٹیوں کے مطلق معلومات۔ ہر یونیورسٹی کی اپنی ویب سائیٹ موجود ہے اور وہاں سے آپ کو سارے روابط اور بنیادی معلومات مل سکتی ہیں اب آپ کی لیاقت پر منحصر ہے کہ اس سے کتنا فائدہ اٹھا سکتے ہیں، اکثر جامعات میں اعٰلی تعلیم بزبان انگریزی میں دستیاب ہے۔ البتہ ڈگری کورس تک تعلیم مفت ہے بلکہ کچھ چاہ پانی کا خرچہ بھی مل جاتا ہے مگر جب بات اعلٰی تعلیم کی ہو تو مقابلہ کا امتحان دینا پڑتا ہے اور اس میں غیر ملکیوں کےلئے مخصوص کوٹےہیں۔ آپ بھی یونی میں کوٹ پہن کے جائیے۔

مکمل تحریر  »

جمعرات, فروری 14, 2008

اٹلی میں نوارد ہونا

دیگر ممالک کی طرح اٹلی میں نوارد دو طرح کے ہوتے بلکہ تین طرح کے کہیے۔ اول سیاح جو عرف عام میں ٹورسٹ کہلاتے ہیں اور اکثر پاکستانی نہیں ہوتے۔ دوسرے ہوتے ہیں ٹُکررسٹ، جو اپنا رزق تلاش کرنے آتے ہیں جسے سلیس اردو میں تلاش معاش کہا جاتا ہے۔
اب ثانی الذکر اصحاب کی مذید درجہ بندی کی جاسکتی ہے۔ اول کہ باقاعدہ ویزہ لے کر آتے ہیں اور انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کہاں جانا ہے، کہاں رہنا ہے اور کس کے پاس کام کرنا ہے، پاکستان سے ٹائی کوٹ لگا کرچلتے ہیں بھلے جون کا ماہ ہی ہو انکی جیب میں اکثر ایک سو یورو ہوتا ہے، جب ایئر پورٹ پر پہنچتے ہیں تو کوئی رشتہ دار استقبالیہ قطار میں کھڑا ہوتا ہے۔
پہلا بیان لو جی دل خوش ہوگیا کہ میاں یورپ کو تو پہنچے، سات دن اٹلی کی فضا کے گن گاتے رہتے ہیں اور آٹھویں دن جب فیکٹری میں کام کر کے آتے ہیں تو اکثر پاکستان میں گزرے ہوئے خوش حال زمانے تو یاد کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ جب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتے تھے۔
دوئم وہ اصحاب ہیں جو پاکستان سے یہاں ایجنٹوں کی مہربانیوں سے پہنچتے ہیں اور بغیر پاسپورٹ کے اور کسی نقد رقم کے ہوتے ہیں البتہ اگر کسی نے نیفے میں کچھ یورو اڑس لئے ہوں تو اور بات ہے۔ ایجنٹ حضرات اکثر اسٹیشن پرپہنچا کر ایک فون کرتے ہیں کسی بندے سے بات کرواتے ہیں کہ لوجی اپکا بندہ آرہا ہے اور یہ جا اور وہ جا۔ وہ بندہ اکثر نہیں آتا۔ صاحب لوگ انتظار کرتے ہیں اور شام کو ہر کسی کو پوچھنا شروع ہوجاتے ہیں کہ بھائی صاحب آپ اس نام کے بندے کو جانتے ہیں، اس نمبر پر میری اس سے بات ہوئی ہے اور اب نمبر نہیں مل رہا۔ معلوم ہوا کہ نمبر بند اور بندہ غائب، اب کیا کریں اگر تو کوئی نیک بندہ ہوا تو کہے گا چل میرے ساتھ رات گزار لے ورنہ اگلے بندے کی طرف۔ دوسرے دن معلوم ہوتا ہے ۔ کچھ معلوم نہیں ہوتا کہاں جائیں گے اور کیا کریں گے۔ ان گروہ میں اکثریت ان پڑھ یا کم پڑھی ہوتی ہے۔ لہذا کچھ بھی کرلیتے ہیں اور بعد میں خوب ترقی کرتے ہیں۔
اب آتےہیں ٹکررسٹ کی طرف جو ہمارے آج کا موضوع ہے۔ انکے لئے پہلا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ انکو زندگی کاکوئی تجربہ نہیں ہوتا اور اکثر پاکستان میں یا تو صرف تالاب علم رہے ہوتے ہیں یا پھر مشٹنڈے، حد سے حد کسی دفتر میں کلرک یا منشی یا پھر کمپوٹر کے دو کورس ۔ ہر دوقسم ہاتھ سے کرکے کھانے سے معذور ہوتی ہے اور یہاں بھی وہی کچھ ڈھونڈتے ہیں مگر یہ عملی ملک و قوم ہے بھائی، زبان کم اور ہاتھ زیادہ چلتا ہے۔ ان کا سب سے بڑا مسئلہ ہی ہوتا ہے کہ ان کو ہر ایرا غیرا کام پسند نہیں آتا، مجھے آج تک نہیں آیا۔ خیر چھ ماہ فارغ رہتے ہیں دن کو سوتے ہیں اور رات کو چیٹ کرتے ہیں نیٹ کیفے پر جاکر۔ چھ ماہ کے بعد جب غریبی دمدارستارے کی طرح چمکتی ہے تو فیکٹری میں مزدوری یا ہوٹلی میں ڈی سی شروع کرتےہیں، بارہ سے پندرہ گھنٹے کام کرتے ہیں اور تین ماہ بعد سوکھ کے کانٹا ہوجاتے ہیں، ڈاکٹر وٹامن کھانے کو دیتا ہے۔ ایک سال بعد لین دین ختم اور اب پر پرزہ نکالنا شروع کرتے ہیں، جناب زبان سیکھنی چاہئے، کوئی ویلڈنگ کے یا خراد کے کورس کا پتہ بتائے۔ ڈرائیونگ لائیسنس کے بغیرگزارہ نہیں، گاڑی کے بغیر بھی کوئی زندگی ہے۔ پھر ایک عدد اپارٹنمنٹ بھی دیکھنا شروع کرتے ہیں کہ میاں اب سیٹ ہوگئے ہیں فیملی کو بھی بلاوائیں۔

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش