Wednesday, July 02, 2008

بیمار ہونا ڈاکٹر جی کا

اور آخر یہ دن بھی آنا ہی تھا کہ آج مجھے بھی دوسروں کو ٹیکے لگا تے لگا تے خود کو ٹیکہ لگوانا پڑا، وہ بھی رمضانی سے، جوکہ بقول اسکے بھینسوں کو ہی ٹیکے لگاتا رہا ہے، اور مجھے بھی بھینس کی مانند ہی ٹیکہ لگے گا۔ خیر بتلانے اور سمجھانے کے بعد ٹیکہ تو لگ گیا اب اللہ خیر ہی کے۔
یہاں پر ٹیکہ لگوانے کے خصوصی مراکز ہیں جہاں پر جا کر آپ ٹیکے لگوا سکتے ہیں مگر پہلے سے وقت لو بھلے 4 دنوں کے بعد ملے اور تب تک آپ ٹھیک ہوچکے ہوں یا پھر احباب جنازہ کا اعلان کر رہے ہوں اور میت وطن واپس بھجوانے کے نام پر چندہ اکٹھا ہو رہا ہو، خیر میری تو انشورنس ہے، امید ہے کہ احباب کو چندہ کرنے کی نوبت نہیں آئے گی۔
دل پر لینے کی کوئی ضرورت نہیں کیوں کہ گھٹنے میں کچھ سوزش ہوئی ہے۔ یورک ایسڈ کی وجہ سے امید ہے کہ چند دنوں تک بندہ پھر سے کودنے کے قابل ہوجائے گا۔ گویا بڈھوں والے امراض، خیر بقول فیاض بھائی کہ ہم جوان کب تھے کسی نے مجھے کبڈی کھیلتے دیکھا، ہاکی فٹ وغیرہ، ہوش سنبھالی تو بھائی جان تھے، پھر چاچو اور اب ابا جان ہوچکے ہیں ۔
اور یہ کہ یہ مسئلہ کوئی عرصہ بیس برس سے چکل رہا ہے۔ پس تاش کھیلنے کی ہی مشقت ہوتی رہی ہے یا پھر شطرنج۔

3 comments:

Qadeer Ahmad said...

سر جی عمر کا تقضا ہے ، زیادہ پریشان نہ ہوں
:p

راہبر said...

اللہ صحت سے نوازے۔ آمین

اجمل said...

اللہ آپ کو جلد مکمل شفاء یاب کرے