Wednesday, February 20, 2008

کچھ اقوال روم سے

نوٹ یہاں روم سے مراد نہ تو سلطنتِ روم ہے اور نہ ہی مولانا روم بلکہ روم شہر ہے جو اٹلی کا دارالخلافہ ہے اور جہاں رومن زبان بولی جاتی ہے اصل اقوال کےلئے آپ میرے اطالوی بلاگ پر رجوع فرمائیں۔ کام کے بعد بندہ تھک جاتا ہے
کام کا لفظ گلے میں اٹکتا ہے
دن آرام کو بنا ہے اور رات سونے کو
آرام کرنے والے کی مدد کرووہ آج نہیں کرسکتے جو کل ممکن ہے
زندگی میں کم سے کم کرنے کی فکر کرو اور یہ کم بھی کسی اور سے کروانے کی
اگر تمھیں کام کرنے کی خواہش ہو تو بیٹھ کر انتظار کرو کہ ختم ہوجائے
زیادہ آرام سے آج تک کوئی نہیں مرا
جو تھک جاتا ہے وہ موت کے زیادہ قریب ہوجاتا ہے۔ اتنا کام مت کرو کہ تھک جاؤ
جب تک صحت ہے کام ہے، بیمار بن جاؤ
ایک سخت قانون کی سخت کم کرنے بہتر طریق اس کو آہستہ آہستہ پیش کرنا ہے یا اس کو نرم بنانا۔
نوٹ: قدیررانا کو مذید شکایت نہیں کرنا چاہئے کہ میرے بلاگ پر اپ ڈیٹ نہیں ہوتے۔

3 comments:

الف نظامی said...

ایہہ کیہڑے سانسی دے اقوال پیے پیش کردے او۔

Qadeer Ahmad said...

بہت اچھے پاء جی ، لگے رہو
:P

اجمل said...

بڑے غضبناک اقوال ہیں یہ