منگل, نومبر 21, 2006

قیدی عورتیں

پیر کو مقامی اسکول میں ”غیر ملکی بچوں کے مسائل اور انکے ممکنہ حل ” کے مسئلہ پر ایک میٹنگ تھی، جسکو مرحوم علامہ مضطرعباسی ”جلسہ” کہا کرتے تھے۔ اس جلسہ میں اساتذہ، ماہرین لسانیات، سماجی کارکنان اور بچوں کے والدین شامل تھے میری موجودگی بطور غیرملکیوں کے امور کے ماہر اور لسانی مددگار کے تھی۔ مختلف قسم کے مسائل سامنے آئے جن میں طلباء کا اسکول لیٹ آنا، اسکول کی طرف سے دیے گئے ہوم ورک کو نہ کرنا، ہم جماعتوں سے لڑائی جھگڑا کرنا، اسکولوں کے طلباء کے درمیان پیدا ہونے والی فطری لسانی گروہ بندی، والدین کا بچوں کا خیال نہ رکھنا، والدین اور اسکول کے درمیان روابط کی کمی اور اسی طرح کے دیگر مسائل جن میں سے کچھ والدین کی طرف سے کیئے گئے تھے اور کچھ اسکول کی طرف سے۔ پھر بات چل نکلی کہ پاکستانی بچوں کی مائیں اسکول میں کم ہی آتی ہیں اور یہ کہ ان میں سے بہت کم تعداد میں زبان جانتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔
کافی کے وقفہ کے دوران ایک پروفیسر لوچیا نامی کافی کا کپ پکڑے میرے پاس آ کھڑی ہوئی اور پوچھنے لگی کہ میں نے سنا ہے کہ تمھاری پاکستانی عورتیں یہاں پر بہت زیادہ ڈیپریشن کا شکار ہیں مجھے یہ معلوم ہوا کہ تم اپنی عورتوں کو چھ چھ ماہ گھر سے نکلنے کی اجازت تک نہیں دیتے اور یہ کہ وہ سارا دن اکیلی گھر میں رہ رہ کر پریشان ہوتی رہتی ہیں۔ اب چونکہ بات ساری پاکستانی قوم کی ہورہی تھی تو میں نے کہہ دیا کہ نہیں ایسی بھی کوئی بات نہیں، ہاں البتہ کوئی اکا دکا کیس اس نوعیت کا ہوسکتا ہے۔ مطلب اپنا آپ صاف بچا لیا۔ مگر بعد میں جب اپنے اردگرد رہنے والے خاندانوں پر نظر دوڑائی تو محسوس ہوا کہ یہ تو شاید ستر فیصد خاندانوں کا مسئلہ بن چکا ہے۔ یہاں اٹلی میں ”ولاز” بہت کم ہیں جبکہ اکثریت دو بیڈرومز کے اپارٹمنٹ میں رہتی ہے۔ اب تین کمرے، کچن اور باتھ روم پر سترمکعب میٹر کا فلیٹ ہے اور میاں صبح چھ بجے ڈیوٹی کےلئے نکل لیئے، بچے ساتھ بجے اسکول کےلئے اب ماں اکیلی گھر میں کیا صفائی کرے گی اور کیسے وقت گزارے گی۔ گھر سے باہر اسکو نہیں جانا ہے اور گھر کے اندر کرنے کو سارا دن کچھ نہیں، ہمسایئے کے گھر نہیں جانا کہ اول تو لسانی آڑ اور پھر انکو غیر مذہب سمجھ کر قابل نفرت سمجھنا۔ اب آجا ے یا ٹی وی یا پھر سرکا درد۔
ہمارے دوست جمال بھائی بڑے مذہبی ہیں اور ہمارے گھر کے نذدیک ہی رہتے ہیں اگلے دن ان سے کوئی کام تھا تو شام کے بعد جا انکے گھر کی گھنٹی بجائی، کافی دیر کے بعد جواب نہ موصول ہوا۔ تو واپس نکل آیا ، دیکھتا ہوں کہ آگے سے جمال بھائی آرہے ہیں اور انکے چند قدم پیچھے بھابھی بھی۔ مجھے دیکھ کر وہ رکے اور بھابھی دس قدم پیچھے ہی سائیڈ میں کھڑی ہوگیں گویا انہوں نے مجھے دیکھا ہی نہیں۔ خیر سلام دعا کے بعد میں نے پوچھا کہ کدھر گئے ہوئے تھے؟ تو کہنے لگے اصل میں تمھاری بھابھی کو لے کر باہر نکل گیا تھا کہ تین چار ہفتوں سے باہر نہیں نکلی اور سردرد کی شکائیت کرتی تھی۔ میں نے کہا کہ اب اندھیرا ہوگیا اور چلو تمھیں گھما پھرا لاؤں۔
مجھے اس بات کی آج تک سمجھ نہیں آئی کہ یہ رویے ہم نے کیسے اپنا لیے ہیں کہ پاکستان میں تو یہی بیبیاں کھیتوں میں کام بھی کرتی ہیں اور گھروں کی سبزی سودا بھی لے آتی ہیں شادی ہوتو انکو روز شاپنگاں کرنی ہوتی ہیں جبکہ ادھر آتے ہی بیبی حاجن کا روپ دھار لیتی ہیں ہیں یا مجبور کردی جاتی ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ اپکو معلوم ہوتو مجھے بھی بتائیے گا۔

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش