اتوار, اکتوبر 29, 2006

پہلا پاکستانی قتل

اٹلی میں پاکستانی کمونٹی بہت کم عرصہ سے ہے اور ابھی اپنے آپ کو ایڈجسٹ کرنے کےلئے کوششاں ہے، مجموعی طور پر پاکستانیوں کو ایک اچھی اور شریف قوم جانا جاتا ہے کہ محنتی ہیں اور فضول لڑائی جھگڑوں اور دیگر جرائم میں ملوث نہیں ہوتے۔ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں اور تھوڑے ہی عرصہ میں کاروباری دنیا میں تیزی سے داخل ہورہے ہیں۔ ہمارے شہر کے چھوٹے درجہ کے کاروبار کا آج شاید دس فیصد حصہ غیرملکیوں کے پاس ہے جن میں 40 فیصدی پاکستانیوں کے پاس ہے؛ گزشتہ ماہ یہاں پر پہلا پاکستانی قتل ہوا جو ایک 22 سالہ لڑکی تھی۔ جسکو اسکے باپ نے قتل کیا اور اس میں اسکے بھائی، بہنوئی اور ایک چچازاد نے مدد کی، یہ چار افراد فی الحال گرفتار ہیں، لڑکی کی نعش کو گھر کے صحن میں دفن کیا گیا جسے بعد میں لڑکی کے اطالوی معشوق کی نشاندہی پر برآمد کیا گیا۔
لڑکی 8 برس پہلے فیملی کے ساتھ اٹلی میں آئی تھی اور یہاں پر ہی بنیادی تعلیم حاصل کی، پھر بقول کچھ لوگوں کے ”حنا آوارہ گردی میں ملوث تھی، شراب و چرس کی دل دادہ اور اس کی مجلس اطالوی اور دیگر غیر ممالک کے لڑکوں کے ساتھ تھی۔”۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ انڈین کے ایک پب میں کام کرتی تھی اسکا لباس مختصر یورپی طرز کا ہوتا تھا۔ گھر میں کم ہی جاتی تھی اور ایک اطالوی لڑکے کے ساتھ بغیر شادی کے رہتی تھی۔ گھر والے کوشش کرتے رہے ہیں کہ اسے پاکستان لے جاکر بیاہ دیا جائے مگر ہو ان کی باتوں میں نہیں آئی اور مبینہ طور پر ان وجوہات کی بنیاد پر اسے قتل کردیا گیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ پہلے ہی پولیس کے پاس ماں باپ کے خلاف کئی مرتبہ جاچکی ہے کہ اسے مارا پیٹا اور زدوکوب کیا جاتا ہے۔ بقول وہ کہا کرتی تھی کہ ” میں روشنی میں زندگی گزارنا چاہتی ہوں جبکہ میرے گھر والے مجھے پھر پاکستانی معاشرے کے اندھیرے میں دھکیلنا چاہتے ہیں، زندگی بار بار نہیں ملتی لہذا اسکا پورا حظ اٹھانا لازم ہے”۔
ایک نظر موجودہ حالات پر بھی ڈالی جائے تو مناسب ہوگا، ان ہی دنوں میں اطالوی حکومت نے اسمبلی میں ایک بل پیش کیا تھا کہ پانچ سال سے زیادہ عرصہ سے مستقلاُ رہائشی غیر ملکیوں کو شہریت دی جائے، جسکی مدت فی الحال دس برس اور کاغذات و شرائط کی ایک طویل فہرست ہے، جبکہ اپوزیشن اور دائیں ہاتھ کی راشسٹ پارٹیاں اس قانوں کی جان توڑ مخالفت کر رہے ہیں۔ اب یہ قتل اپوزیشن کے ہاتھ ایک ہتھیار کے طور پر لگ چکا ہے کہ غیر ملکی جرائم پیشہ ہیں، جو اپنی اولاد کو قتل کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔ پھر ان دنوں مسلمانوں کے خلاف جو ہوا ساری دنیا میں چلی ہوئی ہے اسکی تیزی کا بھی یہ قتل باعث بنا کہ مسلمان اپنی اولاد کو قتل کردیتے ہیں اور دوسروں کو قتل کرنا انکےلئے ایک معمولی سی بات ہے۔ یہ بہت سنگدل ، غیر مہذب اور خون خوار ہیں وغیرہ وغیرہ۔ پھر جلتی پر تیل کا کام ہمارے یہاں کے جاہل عوام نے یہ بیان کر دیا ہے کہ ” یہ بہت اچھا ہوا ہے، اسکے باپ کو ایسا ہی کرنا چاہئے تھا، یہ عین اسلام کے مطابق ہے، ہمارے ایک مشہور عوامی لیڈر کے مطابق یہ پاکستانی ثقافت کا ایک حصہ ہے، اور عین قانون کے مطابق ہے وغیرہ وغیرہ۔
یہاں قارئین سے چند سوالات ہیں:
کیا جو ہوا ٹھیک ہوا؟
کیا وہ باپ بدنصیب نہیں تھا جو اپنی اولاد کا قتل کرنے پر آمادہ ہوا؟
کیا یہ اسلام و پاکستانی معاشرتی قدروں کے مطابق درست فعل تھا؟
کیا ہم بطور پاکستانی، مشرقی و مسلمان اس مغربی مادر پدر آزاد معاشرہ میں جذب ہوسکیں گے؟
کیا ہمیں آپنی اولاد کو وہ سب کچھ کرنے کی اجازت دینی چاہئے؟

مکمل تحریر  »

بدھ, اکتوبر 25, 2006

عید مبارک

میری جانب سے جملہ اہل اسلام و اہلیان پاکستان کو عید مبارک ہو، جملہ اہل اسلام تو خیر میں نے رسماُ کہہ دیا ہے ورنہ امسال جو صورت احوال عید کے متعلق ہے اس سے تو احباب واقف ہی ہیں، کہ یورپ کے کافی ممالک میں اور مشرق وسطٰی میں عید سوموار کو ہوئی، جبکہ کچھ ممالک میں منگل کو اور پاکستان سمیت کچھ ممالک بدھ کو یعنی کل عید کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ عید رحمتوں و برکتوں کا دن ہوتا ہے اور اس دن روزوں کا اجر عطا ہوتا ہے یعنی عام معافی ہوتی ہے تو جناب اس سال عالم اسلام نے تین دن کی معافی کا اہتمام کرلیا، مگر اس سارے قضئے میں ایک مسئلہ مستقبل کے مسلم تاریخ دانوں کو ہوگا۔ کہ اگر ان کو لکھنا پڑ گیا کہ فلاں ہجری بتاریخ یکم شوال کو یہ واقعہ پیش آیا تو ان کو بتلانا پڑے گا کہ کس ملک کی یکم شوال کا ذکر ہے خود پاکستان میں یکم شوال سرحد میں سوموار کو اور ملک کے باقی حصوں میں کہیں منگل اور جہلم بدھ کو ہوگی۔ خیر اللہ دے اور بندہ لے۔ عید مبارک

مکمل تحریر  »

اتوار, اکتوبر 01, 2006

سحرخیزی

رمضان المبارک کے لمحات ہمیشہ ہی یادگار سے ہوتے ہیں، دوسروں کا تو معلوم نہیں مگر میں اپنے آپ کو کچھ افضل اور آزاد سا محسوس کرتا ہوں، کھانے پینے سے مکمل طور پر آزاد، نہ چائے کی طلب، نہ کافی کا فکر، نہ پیو نہ پوچھو۔ دوستوں کے گھر جانا ہو تو وہ بھی کچن میں گھسنے کے بجائے گپ شپ کےلئے وقت دیتے ہیں۔
ابھی تک احباب تعزیت کو آرہے ہیں البتہ ان سے پوچھنا پڑتا ہے کہ روزہ ہے کہ نہیں، خیر جن کا روزہ نہ بھی ہوتو وہ بھی ”ہے” کہہ دیتے ہیں۔ یہاں اٹلی میں روزہ کا کافی رواج ہے بلکہ اس برس ہم تو مکہ مکرمہ کے ساتھ ایک دن پہلے ہی روزہ رکھ بیٹھے جبکہ کچھ علاقوں میں اتوار کو رمضان کا آغاز ہوا۔ اس سال سے ہی روزہ کی طوالت اپنا احساس دلاتی ہے۔ کہ صبح ساڑے پانچ بجے سے لیکر شام سات بجے تک افطار اپنا آپ دکھاتی ہے۔ شام کے بعد خیر سے جہاں پڑ رہے پڑے رہے۔ کہیں آنے جانے سے قاصر ہیں اور نہ ہی نیٹ کے لئے فراغت ملتی ہے۔ خیال ہے کہ آئیندہ کچھ برسوں کے بعد روزہ صبح تین بجے سے لیکر شام ساڑے دس بجے تک ہوگا تب افطار کو ہی سحری تصور کیا جائے گا۔ بقول ہمارے شاہ صاحب ” تب تو کوئی ایمان والا ہی روزہ رکھ سکے گا” ۔ ویسے بھی اٹلی کی گرمیاں گرمی کی وجہ سے مشہور ہیں اور اور درجہ حرارت 40 گراڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ امسال ریکارڈ حرارت 43 گراڈ تھی۔ کل سکول کی نئے سال کے آغاز پر اسمبلی تھی مگر بوجہ افطار شرکت ممکن نہ تھی کہ انہوں نے شام سات بجے کا وقت مقرر کیا ہوا تھا اور یہ وقت افطار کا ہونے کی وجہ سے میں نے معذرت کرلی۔ البتہ پرسوں یعنی منگل شام سے نئی کلاس لے رہا ہوں مگر طلباء سے ہنوز ملاقات نہیں ہوسکی۔
رمضان کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ ہم سحر خیز ہوگئےاور سحری کے لئے جب اٹھےتو دیکھا کہ کچن میں ایک عدد چوہا سیروتفریح میں مصروف تھا۔ اب چونکہ اسے ہمارے ٹائیم ٹیبل میں اس اچانک تبدیلی کا علم تھا جسکی ممکنہ وجہ اسکا ان پڑھ ہونا تھا۔ زاہد صاحب کے بقول ”وہ بھول میں مارکھا گیا” کہ اسکے خیال میں وہ یورپ میں ہے اور یہاں جانوروں پر عدمِ تشدد کا قانون لاگو ہے۔ مگر اسے معلوم نہ تھا کہ ”ہم بھی تو ہیں”۔ پس ہم نے ملکر چوہے کا شکار کیا جس پر دو گھنٹے لگے اور پانچ پلیٹیں، دو کپ، آٹھ گلاس، اور ایک جگ کا نقصان ہوا۔ خیر چوہے کا وزن کوئی ڈیڑھ کلو کے قریب تھا۔ مگر افسوس کہ آس پاس کوئی چائینی نہیں بستا ورنہ اس کے ہاتھ بیچ دیتے ، اسکی ایک وقت کی ہنڈیا چڑھ جاتی اور ہمارے برتنوں کا خرچہ پورا ہوجاتا۔

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش