پیر, فروری 20, 2006

استعفیٰ

اٹلی کے متعلقہ وزير نے استعفیٰ دے ديا ہے اور وزير اعظم بیرلسکونی نے کہا ہے ايسے غير زمہ دار بندے کي حکومت ميں کوئي جگہ نہيں۔ نائب وزيراعظم فرانکوفینی نے روم کي مسجد کا دورہ کيا ہے اور اسلامي ممالک کے سفارتکاروں سے معذرت کي ہے کہ بھائيو اگر ہمارا بھي بائيکاٹ ہوا تو پھر ہمارا کيا بنے گا، انہوں نے روتا منہہ بناکر بتایا کہ ہماری تو پہلے ہی مرغیاں بیمار ہیں ۔ بس ہميں معاف کرديا جائے۔
اپوزيشن والے حکومت کے مستفیٰ ہونےپر اصرار کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے حکومت کے سارے اقدامات ناکافي ہیں اور اس سے برادر اسلامي ممالک کے اور ہمارے درميان اعتماد کا رشتہ ختم ہوگيا ہے۔ نہ صرف بلکہ مغرب اور اسلام کے درميان خليج وسيع ہوئي ہے ۔ جسے پاٹنامشکل ہوجائے گا۔ لہذا حکومت استعیفیٰ دے اور اقتدار ہمارے حوالے کیا جائے، ویسے میری ہمدردیاں اپوزیشن کے ساتھ ہیں۔ آجکل کیمونسٹ پارٹی کے ساتھ بیٹھک جو ہے۔
پاپائے روم نے کہا ہے کھ مذہب کي اسطرح توہيں قابل ملامت ہے اور اسکي اجازت نہيں دي جاسکتي۔ اور نہ ہی توڑپھوڑ کرنےکی۔ اور یہ بھی کہ عوام صبر سے کام لے اور مذاہب کے درمیان مکالمہ ہونا چاہئے۔ یہ بات انہوں نے کراچی میں جلتی ہوئی صلیب کو دیکھ کر کہی اور مذید کہا کہ مذہبی علامات کی توہین بند کی جائے۔ ۔
او آئی سی کا ابھی تک کوئی ردِ عمل سامنے نہیں‌ آیا ہے۔ لگتا ہے کہ وہ لوگ صرف سکون کے وقت ہی اکٹھے ہوتے ہیں اور حلوہ کھاتے ہیں۔ مگر جب جلوہ دکھانے کا وقت ہو تو غائیب ہوجاتے ہیں گویا گدھے کے سرسے سینگ۔

مکمل تحریر  »

ہفتہ, فروری 18, 2006

جلتی پر تیل

ڈنمارک کے اخبار کی کارٹوں والی شیطانی سے لگنے والی آگ جس نے دنیا کو دہلا کر رکھ دیا ہے اور آج ساری دنیا مظاہروں پر مظاہرے کررہی ہے ایک عام مسلمان بھی سراپا احتجاج بنا ہوا ہے۔ مگر اٹلی کے ایک وزیر “کالدونی“ جنکا تعلق دائیں نسل پرست ناردن لیگ سے ہے نے اعلان کیا تھا کہ انہوں ان متنازع کارٹونوں کی شرٹس تیار کروائی ہیں اور وہ انکو تقسیم بھی کریں گے۔ آج ٹی وی کے ایک پروگرام میں انہوں نے اپنی قمیض کے بٹن کھول باقاعدہ طور پر وہ شرٹ دکھائی ہے۔
وزیر اعظم برلسکونی اپناعشائیہ ادھورا چھوڑ کر فی الفور “روم“ پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے اس متعلقہ وزیر کا استعفیٰ طلب کرلیا ہے۔
حزب اختلاف کے لیڈر اور متوقع وزیر اعظم “ پیروڈی“ نے حکومت پر کڑی تنقید کی ہے اور وزیر کے استعفیٰ کے ساتھ ساتھ حکومت کو معافی مانگنے کا بھی کہا ہے۔ جبکہ اپوزیشن کی طرف سے صدر سے مداخلت کی اپیل کی گئی ہے۔
ایک دوسرے وزیر نے ناردن لیگ کو کہا ہے کہ اگر وہ ان کی جماعت کے ساتھ رہنا چاہتی ہے توفوراُ اپنے روئے پر معافی مانگےاور نظر ثانی کرے۔
ادھر لیبیا میں اطالوی سفارتخانہ کا گھیراجلاؤ ہر چکا ہے جس میں گیارہ افراد کی ہلاکت اور 30 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اطالوی وزیر کی اس حرکت سے پوری اطالوی قوم کا سر شرم سے جھک گیا ہے اور دنیا بھر میں‌ پہلے سے جاری پر تشدد مظاہروں میں اضافہ ہوگا۔ جبکہ حکومت کی پوزیشن بہت خراب ہوچکی ہے یاد رہے کہ اٹلی میں اپریل میں الیکشن ہو رہے ہیں اور حکومت کو پہلے ہی بہت مشکلات کا سامنا ہے۔ جبکہ اطالوی عوام وزیر کی اس حرکت پر اس کو لعن تعن کررہے ہیں اور مسلمانوں سے اپنی شرمندگی و ہمدردی کا اظہار کررہے ہیں۔

مکمل تحریر  »

منگل, فروری 14, 2006

احتجاج پر احتجاج

آج گاڑی کے ریڈیو کے ذریعے اطلاع ملی کہ پاکستان میں بعد از پر امن احتجاج عوام ہنگامہ آرائی پر اترآئی ہے۔ گھیراؤ جلاؤ اور
سرکاری و نیم سرکاری املاک پر پتھراؤ اور ان کو آگ لگانا۔ مغربی اداروں بلخصوص میکڈونلڈ، کے ایف سی وغیرہ کا جلاؤ۔
میں اس طریقہّ احتجاج پر احتجاج کرتا ہوں۔ کہ نصاریٰ نے جو کیا وہ قابلِ مزمت ہے اور قابلِ نفرت بھی مگر اس طریق سے سوائے
ملکی و عوامی املاک ضیاع کے کچھ حاصل ہونے والا نہیں۔ ناروے، اٹلی، جرمنی کا سفارتی بائیکاٹ و معاشی قعطع تعلقی ایک
جائیزہے۔ احتجاج کو ممکنہ حد تک پر امن رکھنا ہم سب کی مشترکہ زمداری ہے۔
میرے خیال میں سب سے پسندید و انفرادی طریقہ اسلام آباد والوں نے اختیار کیا ہے اور اسکےلئے گدھوں کا استعمال نہایت انفرادیت کا حامل، جداگانہ اور اہلیانِ اسلام آباد کی ظرافت کا مظہر ہے۔

مکمل تحریر  »

پیر, فروری 13, 2006

نام نہاد آذادي صحافت

ڈنمارک کے اخبار کے کارٹون کے حوالہ سے یہ سوال ابھر کر سامنے آیا ہے کہ کیا کسی کی دل آزاری اور وہ بھی دنیا کی دوسری سب سے بڑی آبادی کی ، آزادی صحافت میں شامل ہے ؟
آج جبکہ نہ صرف ساري مسلم دنيا سراپا احتجاج ہے بلکہ اعتدال و حقيقت پسند غير مسلم بھي اس فعل کي پرزور مذمت کررہے ہيں۔ جبکہ دوسري طرف متعلقہ ممالک کي مصنوعات کا بائيکاٹ، احتجاجي جلسے جلوس، سفارتي تعلقات کا انقاط اور اموات تک واقع ہوچکي ہيں۔ اس کے باوجود ايک طبقہ ايسا بھي ہے جو ٰٰٰنام نہاد آزادئي صحافت کے نام پرٰ اس شرمناک حرکت کو نہ صرف درست قرار دے رہا ہے بلکہ مسلسل اسکا ارتکاب کيا جارہا ہے۔
آپ اس اس اہم موضوع پر اپنی راۓ کا اظہار فرمائیں۔
نيچے دئيے جانے والے ربط کا تعلق ايک آن لائين پٹيشن سے ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ اس پر کلک کرکے اپني پٹيشن ضرور درج کروائيں
اور دوست بلاگرز سے التماس ہے کہ اس ربط کو اپنے بلاگ پر ضرور جاري کريں۔ کہ برے کو برا کہنا تو بہرطور لازم ہے۔

مکمل تحریر  »

شاہ کي ڈائيري

“جن نکالنا“ کوئی آسان کام ہوتا تو ہر بندہ “جن نکالتا پھرتا“۔ یہ تو جن سے پوچھے یا پھر جس کا “جن نکلتا“ ہے اس سے۔ کیوں جن کا ایک ٹھکانہ گیا اور جس کا جن نکلتا ہے اسکو دوہری ضرب لگتی ہے اول ناک میں مرچوں کی دھونیوں کی اذیت اور دوئم ہماری فیس۔ آج کل دھندے میں‌مندا چل رہا ہے کیوں کہ آمدن کم ہونے کی وجہ سے لوگوں کی جن نکلوانے میں دلچسپیاں کم ہورہی ہیں، شاید اسکی وجہ اسکولوں اور تعلیم کا عام ہونا ہی ہو، میں تو کہتا ہوں کہ اس اسکولوں کو “طبیلہ“ بنا دینا چاہئے بلکہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ ان کو تالا ہی لگا دیا جائے کہ ان میں جنات ڈیرے ڈال سکیں اور ہمارے “ دھندہ کا مندا“ ختم ہو۔ میں سوچ رہا ہوں کہ کسی زیادہ آمدنی والے ملک چلا جاؤں۔ یورپ وغیرہ اور ادہر گوروں کے جن نکالوں۔ ویسے گوریوں کے جنات کا نکالنا کچھ اور ہی لطف ہوگا۔ (ہمارے دوست شاہ جی کی ڈائیری کا ایک ورق مؤرخہ 30 جون انیس سو ننانوے) ‌

مکمل تحریر  »

ہفتہ, فروری 04, 2006

موجیں

اردو میں عمومی استعمال ہونے والے لفظ جو دو معنی رکھتا ہے۔ اول الذکر تو پانی کی لہریں ہوتی ہیں اورموجیں کہلاتی ہیں۔ اب یہ لہریں سمندر کی ہوں تو بندے کی عالمِ ارواح میں واپسی کا باعث بھی بن سکتی ہیں اور اگر دریا وغیرہ کی ہوں تو آپ یہ شعر کہ سکتے ہیں کہ “ موج ہے دریا میں‌بیرونِ دریا کچھ نہیں“۔ خیر ثانیاُ الزکر موجیں پنجابی سے اردو میں تشریف لاتی ہیں اور “ مزے“ میں ہونے کے معنی میں استعمال ہوتی ہیں۔ موج میں‌ہونا، موجیں کرنا، موجیں مارنا۔ عمومی استعمال ہونے والے فقرے ہیں جو معتلقہ فرد کی جذباتی حالت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ہمارے شاہ جی کے خیال شریف میں‌ “موج وہ کرگیا ہے جو گدھے پر سوار ہے“۔ اب ان سے پوچھا کہ کیوں‌جناب ؟ تو جواب ملا کہ: گدھا ایک ایسی سواری ہے جس میں پیٹرول نہیں‌ڈلتا، پس گدھے کا سوار “ موجاں“ کرگیا ہے۔اب آپ خود اندازہ کرلیں کہ ایک یورو 30 سینٹ سے بڑھ چکا ہے

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش