منگل, جولائی 25, 2006

الجھا ہوا نقشہ

یہ تحریر بی بی سی ڈاٹ کام پر پڑھی اور لکھنے والے اور چھاپنے والے دونوں کی ذہانت پر داد دینے کو جی چاہا۔ بی بی سی کو تو شروع سے ہی مسلمانوں اور بالخصوص پاکستانیوں سے خداواسطے کا بیر ہے۔ اچھے برے ہر معاشرے میں ہوتے ہیں مسلمانوں میں بھی ہیں اور پاکستانیوں میں بھی۔ یہ بھی کوئی بات تو نہ ہوئی کہ اگر کوئی خبر اسلام یہ مسلمانوں کے حق میں ہو تو وہ نیچے ہوگی اور شام کو اتار دی جائے گی۔ اگر کوئی خبر ان کے خلاف ہو، اس سے ہتک کا کوئی پہلو نکلتا ہو، کوئی بدی یا جرم کی
خبر ہو یا پھر فوج کا خلاف کوئی بات، لازم ہے کہ بی بی سی کے صفحہ پر دو ماہ تک رہے اور کسی واضع جگہ پر بھی ہو۔
اس خبر یا تحریر بلکہ مجھے تو یہ خبر سے زیادہ ایک برین واشر تحریر لگتی ہے جس کا مقصد سوائے اس کے کچھ نہیں کہ مسلمانوں تم تو سو جاؤ رات ابھی باقی ہے۔ حزب اللہ ڈاکوں کا ایک گروہ ہے جس کی سرکوبی کرنے کا اسرائیل کو پورا حق ہے بے شک اس میں معصوم عورتیں اور بچے مارے جارہے ہیں، اورجو مارے نہیں جارہے وہ بیوہ و یتیم ہورہے ہیں، ہاں البتہ ان لوگوں کا کوئی حق نہیں کہ ان مارنے والوں کو روکیں اور انکے خلاف مداخلت کریں۔ یہ تو ایسے ہے کہ قانون کے مطابق انسان کو مارنے جرم ہے لہذا اگر آپ کے گھر میں کوئی چور گھس آئے تو اسکومارئے مت بلکہ کھانا کھلا کر گھر کا سامان دکھلا دیجئے کہ میاں جو چاہے لے جاؤ ” جیسے صدام نے عراق میں کیا اور پھر معائینہ کاروں نےہی حملہ کردیا”۔
بات تحریر کی طرف: بیان کیا جاتا ہے کہ ”حالیہ تصادم میں اسرائیل کا مفاد یہ ہے کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کا صفایا کر کے وہاں لبنانی فوج یا بین الاقوامی امن فوج کا قیام ممکن بنایا جا سکے۔ اس سے اسرائیل کا یہ دیرینہ مقصد پورا ہوتا ہے کہ مصر اور اردن کی طرح لبنان کے ساتھ ملنے والی اسرائیلی سرحد کو بھی محفوظ بنایا جا سکے۔ ۔۔۔۔۔۔۔اس تصادم میں حزب اللہ کا بھی ایک ممکنہ مقصد ہو سکتا ہے کہ وقتی طور پر ایران کے ایٹمی پروگرام سے عالمی توجہ ہٹائی جا سکے۔۔۔۔۔۔اس تصادم کو منطقی انجام تک پہنچانے میں امریکی حکومت کا ممکنہ مفاد یہ ہے کہ خطے میں حزب اللہ جیسی ماورائے ریاست مسلح تنظیم کو مفلوج کرنے سے ایران اور شام جیسی حکومتوں کے ہاتھ کٹ جائیں گے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سعودی عرب، مصر اور اردن جیسی حکومتیں مشرق وسطیٰ میں ماورائے ریاست تنظیموں مثلاً حماس اور حزب اللہ کے عمل دخل پر زیادہ خوش نہیں ہیں۔۔۔۔۔ مذہبی حوالے سے سیاست کرنے والی بنیاد پرستی ہے۔ لبنان کے تصادم سے بنیاد پرست قوتوں کو موقع ہاتھ آئے گا کہ مذہبی تفرقے کے شعلے کو مزید ہوا دی جائے۔ مزید یہ کہ مسلم اکثریتی ممالک میں حکمران قوتوں اور ریاستی اداروں کو لتاڑا جائے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔سیاسی معیشت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ پندرہ برس میں عالمی معیشت نے عالمگیریت کے جس مرحلے میں قدم رکھا ہے، اس میں ماورائے ریاست مسلح تنظیموں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ یہ گروہ جس ریاست میں داخل ہو جائیں، افغانستان ہو یا لبنان، اسے مکمل تباہ کر کے چھوڑتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”۔
اس سارے قصہ میں صاحب قلم نے اسرائیل، امریکہ، کا بھلا بھی کردیا، ایران و شام کو بھی ثواب پہنچا، بی بی سی کی پالیسی کے مطابق بنیاد پرستی بھی شامل تحریر ہوگئی مگر اس سارے قضئیہ و قصہ میں ” لبنان: الجھا ہوا نقشہ، لہو کی تحریر” کہاں ہے لبنان و اہلیانِ لبنان کا تو ذکر ہی گول ہوگیا؟ اس خون کا ذکر کیوں نہیں ہو سکا جو ایک تین سال کے معصوم بچے کا تھا؟ اس باپ کا ذکر نہیں ہوا جو خاندان کا واحد کفیل تھا؟ اس بزرگ کا ذکر نہیں ہوا جو چلنے سے بھی معذور تھا اور اس کی بلڈنگ پر بمباری کردی گئی؟ اور اس بیوہ کا ذکر کہاں گیا جس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جو بھوک سے چلا رہے ہیں؟ کیا بےوقوفی حنان کی بات سے ان کا پیٹ بھر جائے گا؟ کیا کونڈا رائیس کے دورہ سے انکے ذخم مندمل ہوجائیں گے؟
لبنان ایک انسانی سانحہ تو بن ہی چکا ہے مگر اس سے بڑا انسانی سانحہ یہ ہے کہ انسان اس سے بے پرواہ ہیں۔ ”احساس زیاں جاتا رہا”۔

2 تبصرے:

  • iabhopal says:
    7/26/2006 08:53:00 AM

    مجھ پر تو بی بی سی کا کردار آج سے تقريباً اکياليس سال قبل جنگِ ستمبر ميں واضح ہو گيا تھا جب بی بی سی نے بھارتی بس چلتی ہوئی دکھا کر کہا تھا کہ يہ بھارتی بس انارکلی لاہور ميں چل رہی ہے جبکہ وہ مووی بھارت کے کسی شہر ميں بنائی گئی تھی ۔

  • منیراحمدطاہر says:
    8/13/2006 08:16:00 PM

    جشن آزادی مبارک

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش