بدھ, اپریل 12, 2006

لہو کے آنسو

آج ہمارا سب کا دل لہو کے آنسو رو رہا ہے۔ کسی پل قرار نہیں اور کسی کو چین نہیں احباب فون پہ فون کررہے ہیں اور ایک دوسرے سے تعزیت کررہے ہیں مگر کیا کریں، وطن سے دوری بھی تو ایک مسئلہ ہے۔ خیر جو نزدیک ہیں وہ کیا کرسکتے ہیں۔
کراچی کا الم ناک سانحہ ملک کی صورت حال میں ایک اور سیاہی کی مانند ہے۔ اللہ تعالٰی شہداء کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ
عطا فرمائے اور زخمیوں جو جلد صحتیابی سے بہرہ مند فرمائے اور جملہ لوحقین اور قوم کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ یہ تو خیر سے ایک روایتی جملہ بن چکا ہے کہ بھی اللہ کی مرضی مگر بات یہیں تک ختم نہیں ہوجاتی۔ خیر اس ایمان پر تو ہم سب قائم ہیں کہ ہر مصیبت اور نصرت اللہ کی طرف سے ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر سسٹم یا نظام بھی تو اسی کا ہے۔ اور اس میں کیوں دخل اندازی ہوتی ہے اور کون کرتا ہے؟ کون ہے جو اس دخل اندازی سے روکنے کا ذمدار ہے؟ اور اگر پھر بھی مسئلہ حل نہیں ہو رہا تو اس بات کا تعین ہوجانا چاہیےکہ کیا ذمدار نا اہل ہیں؟ یا پھر ایسے تو نہیں کہ خاکم بدہن وہی چوروں سے ملے ہوئے ہیں۔ اور ساتھ میں شور مچائے ہوئے ہیں کہ چور، چور، چور، چور یہاں اٹلی کے میڈیا نے بھی اس واقع کو پوری طرح مقامی خبروں میں جگہ دی ہے اور اس انداز سے بیان کیا ہے کہ گویا سنی شیعہ جنگ اور ازلی معرکہ آرائی کا ایک حصہ ہے۔ اس سلسلہ میں کچھ فائیل فلمز اور بیک امیجز کی بھی مدد لی گئی ہے۔
اب صورت حال مذید دشوار اورگمبھیر ہوتی جارہی ہے، حکومتی ادارے سوائے الزام ترشیوں اور بیانات کے کچھ کرکے نہیں دے رہے ہیں اور عوام لازمی اشتعال کی طرف جارہی ہے۔ مجھے تو یہ ایک لاوا لگتا ہے جو بس حکومت کی بد عنوانیوں اور بد نظمیوں کے خلاف نکلا ہی چاہتا ہے۔ مزید نمک پاشی ہمار سیاہ ست دان کررہے ہیں۔ کہ غیر ملکی ہاتھ ہے تو میاں اس ہاتھ کو کون آکے نکالے گا؟ کس کی زمداری ہے؟ تم کس کام کے ہو؟ اور کیوں ہو؟
ایک دوست کہہ رہے تھے کہ میاں عراق میں جہاں جنگ لگی ہوئی ہے وہاں روز 30 بندے مرتے ہیں اور ہمارے ملک میں جہاں جمہوریت ہے وہاں 40 اللہ کو پیارے ہوتے ہیں ۔ عراقیوں کا لہو تو امریکیوں کے سر لازم ہوا مگر جو قتال ہمارے ملک میں ہورہا ہے اس کا الزام کس کو دیں؟
چمن ہے مقتلِ نغمہ اب اور کیا کہیے
ہر طرف اک سکوت کا عالم ہے جسے نواکہئے
اسیرِ بندِ زمانہ ہوں اے صاحبانِ چمن
گلوں کو میری طرف سے بہت دعا کہئے

2 تبصرے:

  • Waqar says:
    4/14/2006 02:16:00 AM

    اللہ آپ کی دعاوں کو قبول فرمائے۔ آمیں۔

  • شارق says:
    4/14/2006 12:01:00 PM

    افتخار صاحب یہ بہت بڑا سانحہ ہے۔ گن گن کر اور آہستہ آہستہ ہمارے علماء کو قتل کیا جارہا ہے تاکہ پاکستان گنتی کے اچھے لوگوں سے ھی پاک ہوجائے اور تمام حکمرانی چوروں، لٹیروں اور بدمعاشوں کی ہی ہوجائے۔

    کیسے اچھے اچھے لوگ ہم سے چھین لیے گئے۔ حکیم سعید، ڈاکٹر غلام مرتضی ملک، مفتی شامزئی، مولانا یوسف لدھیانوی ۔ ۔ ۔ کس کس کا نام بتائیں۔

    کہتے ہیں عالم کی موت ایک عالم کی موت ہے۔ اسی سے ہمارے نقصان کا اندازہ کرلیں۔

    اگر حکومت نے کبھی علماء کے قاتلوں کو گرفتار کرکے سخت سزا دی ہوتی تو شاید لوگوں میں ایسی بے چینی نہ ابھرتی۔ حکومت سے نفرت بجا ہے۔ سندھ کے حکومتی عہدیداروں کو اپنے فرائض سے کوتاہی پر مستعفی ہونا چاہیے۔

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش