بدھ, اپریل 12, 2006

چوربھی کہے۔۔۔

چوربھی کہے چور چور جب ہم کالج میں پڑھا کرتے تھے تو امتحان کی تیاری میں درسی ماڈل ٹیسٹ پیپرز سے طوطا رٹا مارنےاور بعد ازاں نقلیں تیار کرنے کا کام لیا جاتا۔ تب درسی کے ہر ٹیسٹ پیپر کی خاص پہچان اسکی جلد کی الٹی طرف لکھا ہوا چور بھی کہے چور، چور۔ چوروں سے ہوشیار رہے۔ مگر اس کی سمجھ نہ آتی۔ سیکنڈ ائیر میں انگلش کی تیاری میں استعمال کےلئے چندہ جمع کرکے احباب نے جو اجتماعی ٹیسٹ پیپر خریدا اور اس کا رٹا بھی مار لیا تب فوٹو کاپی کروانی کی ضرورت محسوس ہی نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی رواج تھا بلکہ احباب مل بانٹ کر اس میں موجود سارے مواد کو بطور نقل ایک مرتبہ عام تحریر میں لکھتے اور پھر اس کی مائیکرو نقل تیار ہوتی تاکہ اگر موقع ملے تو کمرہّ امتحان میں لے جا سکیں، یہ اور بات ہے کہ ایسا موقع آجتک نہیں ملا۔ جب ساری تیاری مکمل ہوچکی تو کسی سیانے کو بات سمجھ آئی کہ بھائی جی یہ ٹیسٹ پیپر تو جعلی ہے اور یہ کہ اس میں سے دو ابواب اور کئی سوالات سر پیڑ سے غائب ہیں۔ اب کیا ہوسکتا تھا سوائے اسکے کہ نیا ٹیسٹ پیپر لیا جائے مگر رقم کہاں سے آتی؟ پس ایک اور حلقہ سے ادھار مانگ کر رات ہی رات اسکی کاپیاں تیار کرنا پڑیں پھر مائیکروز اور اسکے بعد احساس ہوا کہ یہ ٹیسٹ پیپر تو سارے کا سارے ہمیں زبانی یاد ہوچکا ہے۔ خیر فائدہ یہ ہوا کہ اس برس کیسی کی کم سے کم انگلش میں کمپارٹمنٹ نہیں تھی۔

1 تبصرے:

  • گمنام says:
    6/02/2008 01:59:00 PM

    Asalam-0-Alikum
    Dr Sb ye Apartment aur Kumparment ma kiya ferq houta hai.

    App ka bhai Telay Shah.

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش