اتوار, اپریل 02, 2006

تنگ آمد۔۔۔۔۔

تنگ آمد بجنگ آمد یہ کہاوت بہت زمانوں سے چلی آرہی ہے اور اسکا ماخظ معلوم کسی کو معلوم نہیں کم سے کم مجھے معلوم نہیں، خیر گئے زمانوں کی اس کہاوت سے ثابت ہوتا ہے کہ تب لوگ تنگ اگر جنگ شروع کرتے تھے اور پھر جنگ بندیاں ہوجاتی تھیں مگر آج کے زمانے میں تنگ آمد سے پہلے ہی جنگ آمد ہوجاتی ہے اور پھر علان ہوجاتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ جاری رہے گی، یعنی جنگ بندی کے امکانات ختم۔
جنگ میں مورچہ بندی لازم ہے بلکہ جنگ کے بغیر بھی آپنے مورچہ میں ہی رہنا چاہئے نہ کہ دوسروں کے مورچہ میں تاک جھانک کی جائے، کہ گولہ بارود کدھر رکھا ہے کہ تاک جھانک سے بھی جنگ چھڑنے کے واقعات قدیم تاریخ میں رونما ہو چکے ہیں، ہمارے شاہ جی کے خیالِ غیر عالیہ میں جنگ کی تیاری کا مقصد جنگ کرنا نہیں بلکہ جنگ سے بچنا ہوتا ہے، اور اگر کوئی ملک یا قوم جنگ کی تیاری جنگ کرنے کےلیئے شروع کردے تو سمجھ لو کہ اسکا فنا ہونا لکھ دیا گیا ہے۔ بہر حال ہم اپنے مورچہ میں ہی ہیں اور کیا ہے کہ ڈٹے ہوئے ہیں۔
کہتے ہیں کہ پیسٹھ کی جنگ میں پاکستانی فوجیوں نے کتے کی دم کے ساتھ ڈائنامیٹ باندھ کر اسے آگ لگا دی اور کتے کو بھگا دیا ہندوستانی مورچےکی طرف، بس کیاہونا تھا وہی جسکی آپکو اور مجھے توقع ہے کہ کتا ادھر گھسا دشمن کے مورچے میں ادھر ڈائنا میٹ کا دھماکہ ہوا اور رہی سہی کسر ادھر موجود گولہ بارود نے نکال دی۔ پس دشمن کا ناس ہوا اور دوستوں نعرہ بلند کیا۔ اب معلوم نہیں ہوا کہ اس میں قصہ میں بہادری کا تمغہ فوجیوں کو دیا جائے یا کتے کو جس نے اس دیدہ دلیری سے وہ ڈائنامیٹ بندھوا لیا۔ خیر ہمیں کیا؟
یہی یا اس سے ملتا جلتا واقعہ مجھے پہلے بھی کسی صاحب نے سنایا تھا، پس تجربہ سے ثابت ہوا کہ جنگ اور پیار میں سب کچھ جائز ہے۔
البتہ شکر کریں کہ یہ واقعہ اردو میں ہے اسکا انگریزی، اٹالین، اسپرانتو یا کسی دوسری زبان میں ترجمہ نہیں ہو سکا ورنہ الزام لگتا کہ ’’ مسلمانوں نے کتے پر ظلم کیا لہذا سارے ملکر پاکستان پر حملہ کردو’’ ، خود بھلے عراق، فلسطین، شام، اردن، افغانیستان میں جو مرضی کرتے پھریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خیر اپنا مورچہ تو بچانا ہے انہوں نے بھی

1 تبصرے:

  • میرا پاکستان says:
    4/03/2006 02:40:00 AM

    ہماري ايک غزل کے دو چار شعر اس موضوع پر
    جب بھي مجھے آمد ہوتي ہے
    بيگم ميري بجنگ آمد ہوتي ہے

    بڑھاپے کي نشاني ياد رکھنا
    بيگم گھر ميں خاوند ہوتي ہے

    محبت نہيں پابند کسي اصول کي
    يہ بن کسٹم کے برآمد ہوتي ہے

    پتھر دلوں کو پل ميں موم کرے
    ہاۓ کيا چيز خوشامد ہوتي ہے

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش