ہفتہ, فروری 04, 2006

موجیں

اردو میں عمومی استعمال ہونے والے لفظ جو دو معنی رکھتا ہے۔ اول الذکر تو پانی کی لہریں ہوتی ہیں اورموجیں کہلاتی ہیں۔ اب یہ لہریں سمندر کی ہوں تو بندے کی عالمِ ارواح میں واپسی کا باعث بھی بن سکتی ہیں اور اگر دریا وغیرہ کی ہوں تو آپ یہ شعر کہ سکتے ہیں کہ “ موج ہے دریا میں‌بیرونِ دریا کچھ نہیں“۔ خیر ثانیاُ الزکر موجیں پنجابی سے اردو میں تشریف لاتی ہیں اور “ مزے“ میں ہونے کے معنی میں استعمال ہوتی ہیں۔ موج میں‌ہونا، موجیں کرنا، موجیں مارنا۔ عمومی استعمال ہونے والے فقرے ہیں جو معتلقہ فرد کی جذباتی حالت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ہمارے شاہ جی کے خیال شریف میں‌ “موج وہ کرگیا ہے جو گدھے پر سوار ہے“۔ اب ان سے پوچھا کہ کیوں‌جناب ؟ تو جواب ملا کہ: گدھا ایک ایسی سواری ہے جس میں پیٹرول نہیں‌ڈلتا، پس گدھے کا سوار “ موجاں“ کرگیا ہے۔اب آپ خود اندازہ کرلیں کہ ایک یورو 30 سینٹ سے بڑھ چکا ہے

1 تبصرے:

  • iabhopal says:
    2/05/2006 04:21:00 PM

    راجہ جی اصلی محارے نے " موجاں لُٹو" تے موجاں مانو

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش