ہفتہ, نومبر 26, 2005

کانسی کا تمغہ

آج کے ہمارے مقامی اخبار نے بہت ” مبارکاں” دی ہیں کہ چلو اٹلی بھی یورپین یونین میں انگلینڈ اور اسپین کے بعد تیسرے نمبر پر آگیا ہے، اور اسنے کانسی کا تمغہ حاصل کرلیا ہے۔ بھئ آپ سوچ رہے ہونگے کہ کس سلسلہ میں؟ تو جناب جو آپ سوچ رہے ہیں وہ بلکل غلط ہے۔ بلکہ سرے سے ہی غلط۔ جی ہاں اصل بات یہ ہے کہ اٹلی یورپین یونین میں تیسرے نمبر پر آیا ہے ”چٹا” جی یعنی ”ہیروئین ” کے کاروبار میں۔ یہ تحقیقات یورپ کی ایجنسی برائے منشیات نے ایک الارم کے طور پر نشر کی ہیں۔ اور مشتری ہوشیار باش کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ” ہیروئین” کے اس استعمال کے عادی کثرت میں جوان طبقہ ہے جو پندرہ سے پینتیس کے دائرہ میں ہے۔ مزید بریں دوسرے درجہ میں استعمال ہونے والا نشہ ”کنابیس” یعنی بھنگ ہے۔ میں سوچ رہا ہوں کہ ہمارے ملک کا کونسا نمبر ہوگا؟

مکمل تحریر  »

جمعہ, نومبر 25, 2005

ایک نظم

میرے خدا میری دعا ہے میری زمین پر اب کوئی زلزلہ نہ آئے مگر مجھ کو یہ سوچنا ہے یہ زلزلہ آخر آیا کیوں ہے زمین میری کیوں لرز اٹھی ہے کیا مکین کے سجدوں میں کچھ کمی تھی جو مکان سجدے میں گر پڑے ہیں؟ کیا مال دینا ہوا تھا مشکل جو زمین نے خون کی زکوۃ مانگی؟ شکار اس زلزلے کاکسی کا سامان، جسم کسی کا، کسی کی جاں ہے جو زد میں آئے، جو بچ رہے، سب کا امتحاں ہے سو دیکھنا ہے! زمین تو لرزی، کیا دل بھی لرزے؟ دلوں میں قائم قلعے ہوس کے، محل حرص کےہیں اب بھی دائم، یا منہدم ہو گئے ہیں؟ تفرقے اور تعصبوں کی اور نفرتوں کی سنگ و خشت سے بنی دیواریں ابھی کھڑی ہیں یا گر گئی ہیں؟ اس سے پہلے انہیں گرانے زلزلہ کوئی اور آئے خود پرستی کے سن مینار اپنے ہاتھوں سے مسمار کر دے میری زمین پر آنے والا یہ زلزلہ بےکار نہ جائے تو اس زمین پر اور کوئی زلزلہ نہ آئے۔ بصد شکریہ: بی بی سی اردو ڈاٹ کام

مکمل تحریر  »

بدھ, نومبر 09, 2005

ویلکم

بندہ جب عازم پردیس ہوتا ہے تو ایک پسماندگی کی حالت ہوتی ہے کی کیساہے کیا ہے۔ جدھر جارہے ہیں، کدھر جارہے ہیں اور کیوں جارہے ہیں؟ اور اگر اس موقع پر کوئی موجود ہو جو آپکو خوش آمدید کہے بلکہ ایسے لوگ بھی ہوں جنکو آپ جانتے بھی نہ ہوں مگر وہ بھی جپھیاں ڈال رہے ہوں تو پھر زندگی کا بوجھ کچھ کم تو ہو ہی جاتا ہے۔ ملک یونان میں اپنے پاکستانیوں کا ایک خاص انداز ہے ویلکم کرنے کا، بس جو بندہ بھی نیا آیا ہے پاکستان سے تو اسکے دوست احباب، جاننے والے نہیں تو صرف واقف بھی مٹھائی لے کے ملاقات کے لئے حاضر ہوتے کی جی مبارکاں ہو آپ پہنچ گئے ہیں اور اب روزگار کا سلسلہ شروع ہوتا ہی ہے گھبرانے کی ضرورت کوئی نہیں اور پھر جاتے ہوئے پانچ سو، ہزار درخمہ بھی جیب میں ڈالتے کہ آپ کے جیب خرچ کےلئے۔ میں حیران رہ گیا کہ اور تو اور ہمارے دوست مولوی انور صاحب کی یونانی ہمسائی بھی مجھے مٹھائی کا ڈبہ لے کر ملنے آئی کہ انور کا دوست اتنے دور سے آیا ہے۔ چند سال پیشتر برمنگھم ایک سیمنار میں جانا ہوا تو میری دوست سنیورا لوچیانہ کہنے لگیں کہ ڈاکٹر تم جا تو رہے ہو مرے بیٹے کو بھی ساتھ لے جاؤ کہ ہم دونوں میاں بیوی کے پاس ٹائم نہیں ہوتا۔ میں نے انکے سترہ سالہ بیٹے “یوری“ کو ساتھ لے لیا۔ برمنگھم سے فارغ ہوئے تو باوجود نوید لوگوں کی منت سماجت کے ہم نے ٹرین پکڑی اور مانچسٹر چلے گئے وہاں پر میرے کزن جعفر منتظر تھے اور کار میں ہمیں اپنے گھر لے گئے رات وہاں رہے تو ان کے ارد گرد کے سارے لوگ اور رشتہ دار ملنے آئے اور خوش آمدید کے طور پر مجھے بھی اور یوری کو بھی دس دس بیس بیس پونڈ دیتے رہے ۔ باوجود نہ نہ کہ ہمارے پاس اگلے دن کافی رقم اکٹھی ہوگئی، دوسرے دن عازمِ لنڈن ہوئے۔ واپسی پر “ یوری“ کی ماں اور باپ ہمیں ائیرپورٹ پر لینے پہنچے ہوئے تھے۔ اور یوری اپنی ماں سے کہ رہا تھا کہ میں پاکستان میں پیدا کیوں نہیں ہوا، مجھے صرف ایک پاکستانی کا دوست ہونے پر ڈیڑھ سو پونڈ ملا ہے اگر پاکستانی ہوتا تو کتنے ملتے؟

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش