اتوار, اکتوبر 30, 2005

اردو ڈیجیٹل لائیبریری پراجیکٹ

Dear friends, AssalamOAlaikum. As you all know, we at urduweb.org are striving to promote Urdu on the net. Our aim is to provide a common platform to the Urdu community for doing collaborative efforts for promoting Urdu and we do need a combined effort to achieve our goals. Recently there has been a discussion on the Urdu Mehfil Forum about creating an online libray in the style of Project Gutenberg and work has actually started on this. Our friend Mohammad Shakir Aziz is coordinating this project. In the following, Mr Shakir explains the need and aims of this project and invites you to join this effort.
عزیز دوستو، السلام علیکم جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں، اردو ویب انٹرنیٹ پر اردو کی ترویج کے لیے کوشاں ہے۔ ہماری یہ کوشش ہے کہ اردو ویب کی صورت میں ہم اردو کمیونٹی کو اردو کی ترویج کے سلسلے میں مشترکہ کاوشوں کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کر دیں اور یہ کام ہم سب مل جل کر ہی سر انجام دے سکتے ہیں۔ حال ہی میں اردو محفل فورم پر پراجیکٹ گٹن برگ کی طرز پر انٹرنیٹ پر ڈیجیٹل لائبریری تشکیل دینے کے بارے میں تجاویز پیش کی گئی اور اس سلسلے میں باقاعدہ کام شروع کر دیا گیا ہے۔ ہمارے دوست محمد شاکر عزیز اس پراجیکٹ کی کوآرڈینیشن کی ذم داری سنبھالے ہوئے ہیں۔ ذیل کی تحریر میں شاکر اس پراجیکٹ کے اغراض و مقاصد کے بارے بیان کر رہے ہیں تاکہ آپ بھی اردو کی ترویج کےاس کام میں شریک ہوں۔ —————————————————————————————————————————- اردو ہم جس کو کہتے ہیں داغسارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہےاردو اور سائنس آجکل اردو کے چاہنے والوں کا پسندیدہ موضوع ہے۔ کچھ کریں یا نہ کریں مگر یہ ضرور کہیں گے کہ ہر چیز اردو میں ہو۔ استعمال چاہیں نہ کریں ۔ کمپیوٹر بھی سائنس میں شمار کیا جاتا ہے ۔ زندگی میں کمپیوٹر کے عمل دخل نے جہاں ہمیں اور پہلوؤں سے متاثر کیا ہے وہاں ہماری زباندانی پر بھی اثرات اور بڑے بد اثرات چھوڑے ہیں ۔ اس کی مثال یہ لے سکتے ہیں کہ رومن میں چیٹ کر کر کے اب میرا یہ حال ہو گیا ہے کہ بعض اوقات شبہ ہونے لگتا ہے کہ شاید اردو میں لکھے اس لفظ کے ہجے ٹھیک نہیں حالانکہ ٹھیک ہوتے ہیں ۔ بات چلی تو عرض کرتا چلوں اردو کا ہاتھ سے لکھنا بھی چونکہ تقریبا عنقا ہوتا ہے، بعد از میٹرک تو اس کا حال بھی برا ہے۔ اس بات کا انکشاف ہم پر اس وقت ہوا جب بی کام پارٹ ون کا اسلامیات کا پرچہ دے رہے تھے اور کسی سے لکھا نہیں جا رہا تھا اردو لکھنے کی عادت نہیں تھی ہاتھوں کو پچھلے ٣ سالوں سےتو کیا خاک لکھا جاتا نتیجتًا تمام لڑکے پرچہ دینے کے بعد دیر تک ہاتھ اور بازو ملتے رہے کہ درد ہو رہا تھا۔ خیر یہ تو بات سے بات تھی۔ ذکر ہو رہا تھا کمپیوٹر میں اردو کا ۔ کمپیوٹر کی بات ہو اور انٹرنیٹ کی نہ ہو یہ تو ہو ہی نہیں سکتا۔ اردو کا نام بھی کمپیوٹر کے لیے حرام تھا چند سال پہلے تک مگر اب کچھ نئی تکنیکوں اور کچھ ٹوٹکوں نے کمپیوٹر پر اردو لکھنا اردو پڑہنا ممکن بنا دیا ہے۔ جب یہ سب ہو گیا تو اردو کے چاہنے والوں کو ہوش آیا کہ اب انٹرنیٹ پر بھی بس ہر طرف اردو ہی اردو کر دیں ۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر اردو ویب آرگ کا قیام عمل میں آیا ۔ جہاں سے ناچیز کے اصرار پر ایک پراجیکٹ یا منصوبہ بسلسلہ اردو ای بکس شروع کیا گیا۔ اگرچہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل مریض کی طرح اس کی حالت نازک ہے مگر امید ہے کہ بہتری ہوگی۔ اردو ای بکس یوں تو موجود ہیں انٹرنیٹ پر مگر یہ سب تصویری اردو میں ہیں تحریری اردو میں نہیں ۔ تصویری اردو وقتی حل ہے مستقل حل نہیں چناچہ یہ منصوبہ جو اردو محفل کے اراکین کی طرف سے ترقی پذیر ہے میں اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ اردو کی کتابیں مہیا کی جائیں جو:1۔تحریری اردو میں ہوں 2۔مفت اور ہر ایک کے لیے ہوں3۔ خصوصًا اردو کی کلاسیکل کتابیں جن کے نایاب ہونے کا خدشہ ہے یا کم ملتی ہیں یا انھیں اردو میں ایک مقام حاصل ہےاور صاحبان ذوق ان کو سینت سینت کر رکھنا پسند کرتے ہیں۔4۔اسلامی کتابیں جیسے قرآن بہ ترجمہ و تفسیرقرآن،احادیث کی کتب،سیرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر کتب، صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی سیرت وغیرہ۔5۔اردو کی لغات جن سے اردو داں طبقے میں اردو کی صلاحیت بڑھے۔6۔ایسی کتابیں جن کی کاپی رائٹ نہ ہو یہ ختم ہو گیا ہو ہو یا متعلقہ ادارہ انکی آن لائن اشاعت کی اجازت دے دے۔ اس سلسلے میں ہمیں ہرممکن تعاون درکار ہے ہم فی الحال علمی تعاون مانگ رہے ہیں۔ اگر:1۔ آپ کے پاس کوئی کتاب ان پیچ یا کسی بھی اردو اڈیٹر میں لکھی ہوئی موجود ہے، آپ اپنی غیر مطبوعہ تحاریر(بشرطیکہ معیار پر پوری اتریں ) یا اپنی یا اپنے ادارہ کی کسی کتاب کا کاپی رائٹ دے سکتے ہوں۔2۔آپ کچھ وقت نکال کے ہمارے ساتھ اس کام میں ہاتھ بٹا سکتے ہوں لکھنے کے سلسلے میں(اور انشاءاللہ مستقبل قریب میں تحاریر کی پروف ریڈنگ کے سلسلے میں جب کام کی رفتار زیادہ ہوگی) 3۔آپ اس کام کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں ہمیں کوئی مفید مشورہ دینا چاہتے ہوں کوئی تکنیکی بات جس سے اس منصوبے کو نکھارنے میں مدد ملے۔4۔اس کے علاوہ کوئی بھی ایسی بات، کوئی تعاون جو آپ کے خیال میں اس سلسلے میں مفید ثابت ہو سکتا ہواگر ہمیں فراہم کریں گے ہم بصد شکریہ اسے قبول کریں گے اور اسے آپکے نام کے ساتھ اپنے منصوبے میں شامل کریں گے۔ اس صدقہ جاریہ کا صلہ تو اللہ ہی دے سکتا ہے مگر دنیا میں جو خوشی اس سے آپ کو اور اردو کے چاہنے والوں کو ملے گی اس کا کوئی بدل نہیں ہوسکتا ۔ اللہ کریم ہمیں توفیق دے ۔خیر اندیشwww.urduweb.org کی جانب سے‘دوست‘

مکمل تحریر  »

جمعہ, اکتوبر 28, 2005

حالات سے فائیدہ

آج جب کہ امریکہ افواج پاکستان میں ہیں اور نیٹو والے بھی پہنچ رہے ہیں تو عام آدمی جس کا دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے یہ
ضرور سوچتا ہے کہ پاکستان کی اس مشکل سے ، اس آفت اور مصیبت کے وقت سے لازم فائیدہ اٹھائے گا۔ مگر کیسے؟امریکہ افواج کا پاکستان میں داخلہ کوئی معنی نہیں رکھتا ۔ الحمدللہ ہمارا ملک اسقابل ہے کہ جب بھی چاہے انکو ایک نوٹس پہ نکال دے جس طرح اس سے پہلے ایوب خان، ضیاّ الحق اور خود مشرف کے دور میں افغان امریکہ جنگ کے بعد ہوا ہے۔ اصل خطرہ پاکستان کو دو اور سمتون سے ہیں ایک تو معاشی طور پر ملک کا ڈھانچہ ہل گیا ہے اور ماہرینِ معاشیات کے مطابق ”یہ تیزی سے ترقی کرنے والا ملک آج بہ یک جنبش دس برس پیچھے چلا گیا ہے” امریکہ اسرائیل و بھارت اس سے لازم فائیدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے اور دوئیم آج کل ملک کے اندر اور باہر افواجِ پاکستان کے خلاف ایک پراپیگنڈہ مہم چل رہی ہے ۔ چونکہ ملک میں فوج ہی واحد ادارہ ہے جس میں کچھ نظم اور جامعیت باقی ہے ورنہ باقی کے ادروں کا احوال تو آپکے سامنے ہی ہے۔ اس آفت میں سارے سول اداروں کی ناکام ایک حقیقت ہے جسکو وجوہات چاہے پہاڑی علاقہ ہوں یا سیاسی تانہ کھینچی۔ ظاہر ہے ان حالات میں فوج بھی ایک محدود کردار ادا کرسکتی تھی۔ میں بی بی سی، سی این این اور دیگر یورپی خبررساں ایجنسیوں کی خبروں اور تبصروں کے انداز سے یہ تاثر لے رہا ہوں کے فوج کے خلاف معاملات اور شکایات کو زیادہ اچھالتے ہیں اور دیر تک نمایاں رکھتے ہیں۔ جس کا مقصد سراسر عوام اور افواج
کے درمیان ایک خلیج کو حائل کرنا ہے، ایک دوری کو پیدا کرنا ہے

مکمل تحریر  »

سوموار, اکتوبر 10, 2005

قومی آفت

اسلام آباد میں وزارت داخلہ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اب تک زلزلے سے بیس ہزار سات سو پینتالیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ تقریبا سینتالیس ہزار افراد زخمی ہیں۔ ملبے کے نیچے دبے ہوئے افراد کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے جن میں سے سینکڑوں ابھی بھی زندہ ہیں۔ حکام کے مطابق زلزلے سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک مرنے والوں کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ ان ہزاروں لوگوں کی گنتی نہیں ہو سکتی جو ملبے تلے پھنسے ہوئے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے یونیسف کے حوالے سے بتایا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد تیس سے چالیس ہزار کے درمیان ہو سکتی ہے۔
اس عظیم قومی المیہ میں ہم سب قوم کے دکھ میں شریک ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ متاثرین کی بحالی کےلئے جلد از جلد اقدامات کئے جائیں اور جولوگ ابھی تک ملبہ کے نیچے پھنسے ہوئے ہیں، جو کھلے آسمان تلے بے یارومدگار پڑے ہوئے ہیں ان تک امداد اور بقا کےلئےامدادی کاروائیاں تیز کی جائیں کیونکہ گزرنے والا ہر ایک لمحہ ان کو موت کے منہ میں دھکیل رہا ہے۔ اللہ تعالٰی سب کو اپنی امان میں رکھے اور ہماری قوم پر اپنی خصوصی رحمت فرمائے آمین امداد کےلیے اسلام آباد میں جناب افتخار اجمل بھوپال سے رابطہ

مکمل تحریر  »

جمعرات, اکتوبر 06, 2005

علمی فقیر

یورپ میں نیو لاطینی زبانوں کا ایک بہت بڑا گروپ جس میں اطالوی، فرنچ، ہسپانوی، پرتگیزی، اسپرانتو اور رومینی زبانوں کے علاوہ بہت سی مقامی زبانیں بھی شامل ہیں مثلاً سسلی، ناپولین، سوئس اٹالین، کتان وغیرہ۔ اگر دیکھا جائے تو یہ ساری زبانیں یورپ کے جنوبی حصہ میں موجود ہیں اور یہ حصہ افریقہ اور ایشیا کے ساتھ جغیرافیائی طور پر مربوط ہے مثلاً اسپین میں مراکشی عربوں کی حکومت، اٹلی پر قرطاجنہ کے ہنی بال کی ہاتھیوں پر چڑہائی اور کوہِ الپس کا عبور کرنا، اطالویوں کا لیبیا اور ایتھوپیا کو کالونی بنانا، سسلی پر مسلمانوں کی صدیوں حکومت، رومانیہ پر ترکوں کی چڑھائی۔ یہ سارے رابطے تاریخی طور پر مستند ہیں۔ اسی وجہ سے نیولاطین زبانوں میں عربی جو کہ مشرق کی ایک بڑی زبان کے اثرات واضع نظرآتے ہیں مثال کے طور پر فندق (ہوٹل) فنداکو، ال اور اِیل کا آرٹیکل، رقم کو دینارو کہنا، افریقہ سے آنے والی ہوا کو شروکو کہنا- کہا جاتا ہے کہ جب اہلِ اسلام دنیا میں علم و فن کی قندیلیں روشن کر رہے تھے تو یورپ میں یہ خطہ چونکہ اہلِ شرق سے رابطہ میں تھا تو علوم و فنون سارے کے سارے عربی سے ان ہی زبانوں میں پہلے پہل منتقل ہوئے تھے اس وقت کی مستند سائینسی اصطلاحات آج بھی ہمیں ان زبانوں میں ملتی ہیں۔ پھر حالات بدلتے ہیں اور دنیا دیکھتی ہے کہ اہلِ اسلام اپنے چھٹے فرض ‘‘ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے‘‘ کو بھول کر آج علمی فقیر ہوچکے ہیں اور اہلِ غرب کی علمی اصلا حات کو دھڑادھڑ اپنا رہے ہیں۔

مکمل تحریر  »

ہفتہ, اکتوبر 01, 2005

حق

بہت سالوں کے بعد اس دفعہ خوش قسمتی سے پاکستان میں تقریباُ ٣ ماہ رہنے کا اتفاق ہوا، تمام اہلِ خانہ اور جملہ احباب بہت خوش تھے کہ چلو آخر کار لمبی لمبی ملاقاتیں ہونگی اور گپ چلے گی۔ چند دن گزرتے ہیں تو کیا دیکھتا ہوں کہ پوسٹر اور بینرز کی بھر مار ہو رہی ہے اور ایک نیا کام جو دیکھا اس دفعہ کہ کاروں کی عقبی اسکرین پر نام لکھے گئے ہیں ساتھ امیدوار برائے فلاں وغیرہ۔ اسکا ایک فائدہ البتہ ہوا کہ ملنے والوں کا تانتا بندھا رہا، اول تو گھر سے نکلنا محال تھا پہلے تو دوست احباب ملنے آتے رہے پھر امیدوار اور پھر انکے حمائتی کہ لوجی چونکہ ہم آپ کے یہ لگتے ہیں اور ہم ووٹ دے رہے ہیں مرزا صاحب کو لہذا آپ نے بھی مرزا صاحب کو ووٹ دینی ہے، ہمارے دوست ماسٹر طارق صاحب بھی مرزا صاحب کے زبردست حمائیتی ہیں اور ہر روز بلا ناغہ آکرمرزا صاحب کو ووٹ دینے کی تاکید کرتے رہے، ایک دن میں نے از راہّ تفنن کہہ دیا کہ میں تو چوہدری صاحب کو ووٹ دے رہا ہوں آپ بھی انکو ووٹ دیں تو ناراض ہوگئے کہ لو اب تم بڑے آدمی بن چکے ہواور تم پر ہمارا اتنا حق بھی نہیں، لو جی آج سے ہماری تمھاری ختم اور ہم جارہے ہیں۔ میں انکے جانے کے بعد سوچتا رہ گیا کہ انکا تو مجھ پر حق ہے مگر میرا ان پر کیوں نہیں؟ بعد میں ماسٹر صاحب کو راضی بہت مشکل سے راضی کیا اس وعدہ کے ساتھ کہ ہاں ووٹ مرزا صاحب کو ہی دیں گے تو کہنے لگے صرف اپنی ووٹ نہیں بلکہ گھر کے تمام افراد اور مجھے حامی بھرنی پڑی۔ اور ایک میرے اطالوی دوست سنیور دوریانو ہیں، پچھلے برس الیکشن کے چند دنوں کے بعد ہم اکٹھے بیٹھے ہوئے تھے ایک کیفیٹیریا میں اور ڈاکٹر فرانکو باتوں ہی باتوں میں پوچھ بیٹھے کہ سنیور دوریانو تم نے کس کو ووٹ دی تھی اب سنیور دوریانو راشن لے کر چڑھ گئے ڈاکٹر پر کہ تم دنیا کے انتہائی جاہل آدمی ہو جس کو دوسروں کے حقوق کا پاس تک نہیں، ووٹ میری ہے یا تمہاری، تم ہوتے کون ہو پوچھنے والے وغیرہ وغیرہ، اور ڈاکٹر صاحب معذرت کرتے نظر آئے کہ غلطی سے کہہ دیا معاف کردو۔ مجھ سے انتہائی غیر جمہوری اور جاہلانہ حرکت سرزد ہو گئی ہے

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش