جمعہ, جون 24, 2005

عمرِرفتہ کو آواز

گزشتہ چند ماہ سے اچانک تعلیمی سلسلہ دوبارہ چل نکلا ہے اور ہم پھر سے مکتب کا حظ اٹھارہے ہیں۔ ہوا کچھ یوں کہ پروفیسرمارکو نے میل بھیجی کہ بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹر درجہ کا ایک کریش کورس آرہا ہے جس کا دورانیہ مختصر تو ہوگا مگ داخلہ لے لو کہ مستقبل میں فائیدہ دی گا، بس ایک دم میں لنگوٹی کس، ساری مصروفیت سائیڈ پر پھینک، اور پچاس کلو میٹر ڈرائیوکرکے پہنچے یونیورسٹی تو ایک صاحب بڈھے کھوسٹ، ساٹھ کا سن اور اللہ اللہ کرنے کے دن دروازے پر کھڑے ہیں، میر سمجھ گیا کہ لا محالہ طورپر یہی پروفیسر ہیں نہیں تو انظامیہ کے کوئی قنوطی قسم کے افسر۔ بعد از سلام مجھ سے گویا ہوئے کہ آپ ادھر پڑھنے آئے ہو۔ میں نے کہا جی، جواب میں اچھا کہ کر خاموش ہوگئے، مجھے چونکہ گاڑی پارک کرنا تھی لہذا گردو نواح میں فری پارکنگ کا پوچھا تو وہ صاحب میرے ساتھ گاڑی میں سوار ہوگئے اور ہسپتال کی فری پارکنگ تک پہنچادیا، راستہ میں حدِادب قائم رہی، کلاس روم میں داخل ہونے پر معلوم ہوا کہ ہمارے ہم مکتب ہیں۔ ساٹھ سال عمر ہے اور 35 سال پیشتر انہوں نے عمرانیات میں گریجویشن کیا تھا، ہمارے ملک میں ہوتے تو اول تو عازمِ جنت ہوچکے ہوتے یا پھر بسترِمرگ پر ہوتے۔ فوٹو بطورِ تصدیق لگادیا ہے گلابی شرٹ میں ہیں ہمارے ہم مکتب عسایہ

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش