ہفتہ, مئی 28, 2005

دروغ بر گردن۔۔۔۔۔

دروغ بر گردن۔۔۔۔۔ فارسی زبان کا بہت قدیم محاروہ جو تاریخ کی کتابوں میں اکثر ملتا ہے، مثلاً علامہ ابن کثیر کی تاریخ میں قدیم جنگوں کے بیانِ احوال کے بعدمرنے والے اور زخمیوں کی تعداد طرفین کی طرف سے مختلف روایتوں کے حوالہ سے بیان ہوتی ہے اور چونکہ ہر روایت کا راوی مختلف ہونے کی وجہ سے بیان کردہ تعداد بھی کم و بیش ہوتی رہتی، اب عام فہم سی بات ہے کہ ایک جنگ میں مقتول و مجرع افراد کی تعداد تو ایک ہی ہوتی ہے۔ یہ تو ہو نہیں سکتا کہاایک ہی جنگ میں تین سو چالیس بندے مرے ہوں اور پانچ سو بیس بھی مگر ایسی صورت اکثر سامنے آتے رہتی ہے نہ صرف قدیم تاریخ میں بلکہ جدید تاریخ یعنی گزشتہ کل کی جنگوں، عراق، افغانستان وغیرہ، تو تعداد کی کم بیشی لازمی طور پر ایک اختلاف کو ظاہر کرتی ہے، جسکا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ سچا تو ایک ہی ہے جبکہ باقی کے لوگ ’’دروغ گو’’ یعنی ’’جھوٹے ’’ ہیں۔ اب یہ بھی لازم نہیں کہ راوی ہی دروغ گو ہو بلکہ ایسے بھی ممکن ہے کہ بھول چوک، غلط فہمی اسکی وجہ ہو یا پھر راوی بھی ذاتی طور پر صرف روایت ہی بیان کر رہا ہو، اب اس سارے قضیے کو جو ہزار سال پہلے ہو چکا ہو کون نمٹاتا پھرے اور دماغ کھپائے علامہ موصوف اس سارے قضیہ کا فیصلہ کرنے کی بجائے اپنی جان چھڑاتے اور لکھ مارتے ’’ دروغ بر گردنِ راوی’’۔ میں نے جو سنا لکھ دیا۔ علامہ صاحب تو اپنی جان چھڑا کر ’’راوی صاحب کی گردن کو پھنسا کر چلتے بنے کہ بھئی اگر کوئی شک ہے تو صاحبِ روایت کو پوچھیے، مگر اردو ادب کے کچھ اہل ذوق لوگوں نے راوی کو دریائے راوی لکھ کر راوی صاحب کی جان بخشی کروادی۔ ’’دروغ بر گردنِ دریائے راوی’’ اور اگر آپ کو بات میں کوئی جھوٹ یا شک نظر آتا ہے تو ہماری بجائے دریائے راوی کو پکڑیے اب بھلے ہم جھوٹ ہی بولیں دریائے راوی تو ترید کرنے سے رہا

مکمل تحریر  »

جمعرات, مئی 05, 2005

موجیں ہماری

ایک زمانہ تھا کہ ’’یاہو’’ پانچ ایم بی اور ’’ہاٹ میل’’ تین ایم بی کی جگہ ای میل باکس کےلیے صارفین کو مفت فراہم کرتا تھا، روز یاہو اور ہاٹ میل کی ای میل ملتی جو ’’ٹیم سٹاف’’ کی طرف سے ہوتی کہ آپ کا میل باکس فل ہو چکا ہے، اب اسے خالی کرلیں تاکہ مذید میل آ سکیں نہیں تو آپ کو ارسال کردہ میل واپس کردی جائے گی وغیرہ وغیرہ، اور ہاٹ میل تو کچھ زیادہ ہی ’’ کاروباری’’ ہوگیا تھا، روز میل باکس کا سرخ حد کو چھوجانے کا پیغام ملتا اور ساتھ ہی بڑا زیادہ گنجائیش والا پچیس ایم بی والا میل باکس خریدنے کی دعوت ہوتی۔ پھر 3 سال قبل میرے ’’سرور پروائیڈر’’ کی طرف سے ڈی ایس ایل کنیکشن خریدنے پر مجھے پچاس ایم بی کا میل باکس فری میں دیا گیا اور خوشی کا ٹھکانہ کوئی نہ تھا۔ پھر ادھر خبروں میں معلوم ہو کہ ’’گوگل’’ ایک جی بی کا میل باکس بنانے کے چکر میں ہے، ہم نے ڈھونڈ شروع کردی، برازیل کی ایک دوست کی دعوت پر ہم جی میل کے ایک جی بی اکاونٹ کے مالک ہو چکے تھے، اب ایک عجیب سا احساسِ تفاخر تھا، دوستوں کو بتاتے پھرتے گویا شیخیاں ماری جا رہی ہیں اور دعوتیں دی جاتیں کہ بھئ آو بڑی گنجائیش کا میل باکس لے لو۔ پھر معلوم ہوا کہ یاہو والے بھی مارکیٹ میں کود پڑے ہیں، اور انہوں نے بھی اپنا میل باکس سو ایم جی کردیا ہے، اب ’’ہاٹ میل’’ انکے پیچھے ہی سو تک پہنچی تو یاہو نے اگلے دن ہی 250 ایم بی کا علان کردیا اور پھر ان انکھوں نے دیکھا کہ میرا ہاٹ میل بھی 250 ایم بی کا ہو چکا ہے۔ اگلے دن ایک سایٹ میل میں معلوم ہوا کہ یاہو کا میل باکس بھی ’’ایک جی بی’’ کا ہورہا ہے اور میرا میل باکس بھی، پھر جی میل کا پیغام آیا کہ آپ کا میل باکس ’’دو جی بی’’ کا ہو چکا ہے اور ساتھ ہی اعلان کردیا کہ ہمیں آپنے معزز صارفین کا بہت احساس ہے اور ہم کوشش کر رہے ہیں آپ کے میل باکس کی گنجائیش میں اور اضافہ کردی جائے، جو غیر معینہ ہو۔ ویسے آپ کی اطلاع کے لیے آجکل جی میل اکاونٹ کی گنجائیش 2300 ایم بی سے زیادہ ہے۔ بھلے ہماری تو موجیں ہی نہیں ہوگیں، مقابلہ کاروباری لوگوں کا اور مزے ہمارے۔ دیکھئے مائیکروسوفٹ کا مقابلہ کون اور کب شروع کرتا ہے۔ نئی ونڈوز کی قیمت جو 450 یورو ہے

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش