جمعرات, دسمبر 22, 2005

موبائیل فون

ہمارے وطن عزیز پاکستان میں موبائیل فون تو عام ہوگیا ہے۔ مگر ہم نے اسے ایسے ہی لیا ہے کہ بس اتفاقاُ ہاتھ آگیا تو لے لیا، جیسے پاکستان ہر بندہ ہر جگہ پر موبائیل لئے پھرتا ہے۔ اور فون کی گھنٹی بجنے کی دیر ہے چاہے کتنی بھی اہم مجلس کیوں نہ ہو یا کوئی بھی اہم موضوع مگر فون پر جواب دینا ضروری ہے جبکہ باقی کے لوگ منہہ دیکھا کریں۔ ہمارے یہاں مساجد میں بھی دورانِ نماز موبائیل اکثر بج رہا ہوتا ہے اور صاحبِ فون اسے اس لئے بند نہیں کررہے ہوتے کہ اس سے نماز کو حرج ہوگا، بھلے باقیوں کی نماز کا ستیاناس ہوجائے، اور باقیوں کا بھی یہ حال ہے کہ بعد میں کوئی بندہ اسے کو یہ تک نہیں کہے گا کہ “ میاں کچھ خیال کرو“۔ میرا کافی دفعہ اتفاق ہوا ہے ادھر گرجوں میں جانے کا بھی، تو وہاں پر شاز ہی ہمیں موبائیل کی گھنٹیاں سننے کو ملتی ہیں، اسی طرح یہاں پر اٹلی میں ہسپتالوں کو بھی موبائیل سے پاک قرار دیا گیا ہے۔ مگر ہمارے ملک میں ہستال ہوں یا مسجد ہم لوگ اخلاقیات سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ سال کے آغاز میں اٹلی میں ایک نیا قانون آیا تھا کہ کسی بھی عوامی جگہ (دفتر، ہوٹل، ریسٹورنٹ، بلڈنگ کی سیڑیاں، ریلوے اسٹیشن، ائرپورٹ اور دیگر بند جگہیں وغیرہ) پر سیگریٹ پینا ممنوع قرار دیا جاتا ہے۔ جس پر 35 سے لیکر 350 یورو تک کا جرمانہ رکھا گیا۔ اس دن سے میں نے نہیں دیکھا ہے کہ کسی بندے نے ان جہگوں پر سیگریٹ پیا ہو اور نہ ہی سنا ہے کہ کسی کو جرمانہ ہوا ہے۔ قانون بنا، صبح اخبار میں آیا اور پھر عمل ہوگیا۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ اور یہ بھی کہ یورپ میں اٹالینز کو جاہل اور گنوار قوم قرار دیا جاتا ہے، میرے دوست ظہیر ہیں وہ شمالی اٹلی میں جرمن علاقے میں مقیم ہیں۔ بقول انکے جرمن یہ کہتے ہیں کہ اٹالین“ کھوتے“ ہیں اور انکو زندگی گزارنے کا شعور ہی نہیں ہے۔ ہمارے بارے میں جانے کیا کہتے ہونگے۔

4 تبصرے:

  • میرا پاکستان says:
    12/23/2005 02:37:00 AM

    آپ کي بات بلکل درست ہے مگر حکومت سے کوئي اميد نہ رکھيں کہ وہ يورپ کي طرح يہاں بھي کسي قانون پر عمل کراسکے گي۔ بس اس دن کا انتظار ہے جب کوئي خدا کا نيک بندہ حکومت سنبھالے گا اورقوم کي بھلائي کيلۓ کام کرے گا۔

  • شارق مستقیم says:
    12/23/2005 12:07:00 PM

    قانون کا تو اللہ حافظ ہے لوگوں میں شعور آجائے اللہ کرے۔

    اللہ آپ کو خوش رکھے کہ مسئلہ اٹھایا۔

  • Attiq-ur-Rehman says:
    12/23/2005 12:50:00 PM

    السلام علیکم
    بجا ارشاد ! موبائل کو واقعی یار لوگوں نے مذاق بنا دیا ہے ۔ مسجد میں موبائل کے بول پڑنے کی جو بات آپ نے کی ہے میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ نماز میں ایک ہاتھ استعمال کیا جاسکتا ہے۔اس لیے اگر موبائل آن رہ گیا ہے تو بند کر لینا چاہیے کیونکہ تقریباّ تمام موبائلوں کی گھنٹی کسی نہ کسی گانے کی طرز پر ہوتی ہے اور اللہ معاف کرے میرے جیسے بندے کا دھیان فوراّ ادھر چلا جاتا ہے۔

  • Ayesha says:
    12/23/2005 11:21:00 PM

    آپ نے بلکل صحیح کہا ہے، اب یہ ہوٹل، ہسپتال، اور سب سے بڑی جکہ میں بتاتی ہوں آپ کو، موبائل فون کو لوگوں نے کعبہ میں بھی استعمال کرنا شروع کردیا ہے، جی جناب، دوران طواف، دوران نماز اور تو اور دوران عمرہ، بند تہ دور کی بات خاموش تک نہیں کرتے موبائل کو، اللہ ہی ہدایت دے ہم سب کو۔۔

    ۔عائشہ

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش