بدھ, نومبر 09, 2005

ویلکم

بندہ جب عازم پردیس ہوتا ہے تو ایک پسماندگی کی حالت ہوتی ہے کی کیساہے کیا ہے۔ جدھر جارہے ہیں، کدھر جارہے ہیں اور کیوں جارہے ہیں؟ اور اگر اس موقع پر کوئی موجود ہو جو آپکو خوش آمدید کہے بلکہ ایسے لوگ بھی ہوں جنکو آپ جانتے بھی نہ ہوں مگر وہ بھی جپھیاں ڈال رہے ہوں تو پھر زندگی کا بوجھ کچھ کم تو ہو ہی جاتا ہے۔ ملک یونان میں اپنے پاکستانیوں کا ایک خاص انداز ہے ویلکم کرنے کا، بس جو بندہ بھی نیا آیا ہے پاکستان سے تو اسکے دوست احباب، جاننے والے نہیں تو صرف واقف بھی مٹھائی لے کے ملاقات کے لئے حاضر ہوتے کی جی مبارکاں ہو آپ پہنچ گئے ہیں اور اب روزگار کا سلسلہ شروع ہوتا ہی ہے گھبرانے کی ضرورت کوئی نہیں اور پھر جاتے ہوئے پانچ سو، ہزار درخمہ بھی جیب میں ڈالتے کہ آپ کے جیب خرچ کےلئے۔ میں حیران رہ گیا کہ اور تو اور ہمارے دوست مولوی انور صاحب کی یونانی ہمسائی بھی مجھے مٹھائی کا ڈبہ لے کر ملنے آئی کہ انور کا دوست اتنے دور سے آیا ہے۔ چند سال پیشتر برمنگھم ایک سیمنار میں جانا ہوا تو میری دوست سنیورا لوچیانہ کہنے لگیں کہ ڈاکٹر تم جا تو رہے ہو مرے بیٹے کو بھی ساتھ لے جاؤ کہ ہم دونوں میاں بیوی کے پاس ٹائم نہیں ہوتا۔ میں نے انکے سترہ سالہ بیٹے “یوری“ کو ساتھ لے لیا۔ برمنگھم سے فارغ ہوئے تو باوجود نوید لوگوں کی منت سماجت کے ہم نے ٹرین پکڑی اور مانچسٹر چلے گئے وہاں پر میرے کزن جعفر منتظر تھے اور کار میں ہمیں اپنے گھر لے گئے رات وہاں رہے تو ان کے ارد گرد کے سارے لوگ اور رشتہ دار ملنے آئے اور خوش آمدید کے طور پر مجھے بھی اور یوری کو بھی دس دس بیس بیس پونڈ دیتے رہے ۔ باوجود نہ نہ کہ ہمارے پاس اگلے دن کافی رقم اکٹھی ہوگئی، دوسرے دن عازمِ لنڈن ہوئے۔ واپسی پر “ یوری“ کی ماں اور باپ ہمیں ائیرپورٹ پر لینے پہنچے ہوئے تھے۔ اور یوری اپنی ماں سے کہ رہا تھا کہ میں پاکستان میں پیدا کیوں نہیں ہوا، مجھے صرف ایک پاکستانی کا دوست ہونے پر ڈیڑھ سو پونڈ ملا ہے اگر پاکستانی ہوتا تو کتنے ملتے؟

4 تبصرے:

  • منیراحمدطاہر says:
    11/09/2005 11:08:00 PM

    اسی لئے تو کہتے ہیں کہ ‘ دل دل پاکستان جاں جاں پاکستان‘

  • Hypocrisy Thy Name says:
    11/10/2005 02:29:00 PM

    پاکستانی سب تو برے نہیں ہیں پر اس میں آپ کے اصل میزبانوں کا وہاں کے لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک بھی شامل ہے

  • شعیب صفدر says:
    11/15/2005 06:46:00 PM

    یہ مجھے اس سے ملتی جلتی رسم معلوم ہوتی ہے وہ جس میں کسی کے گھر جائے تا اس کے بچوں کو پیار میں پیسے دیتے ہیں یا کوئی گھر آئے تو۔۔۔۔۔

  • گمنام says:
    11/23/2005 09:59:00 PM

    good .! nice writting ..

    (buchee).

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش