جمعرات, اکتوبر 06, 2005

علمی فقیر

یورپ میں نیو لاطینی زبانوں کا ایک بہت بڑا گروپ جس میں اطالوی، فرنچ، ہسپانوی، پرتگیزی، اسپرانتو اور رومینی زبانوں کے علاوہ بہت سی مقامی زبانیں بھی شامل ہیں مثلاً سسلی، ناپولین، سوئس اٹالین، کتان وغیرہ۔ اگر دیکھا جائے تو یہ ساری زبانیں یورپ کے جنوبی حصہ میں موجود ہیں اور یہ حصہ افریقہ اور ایشیا کے ساتھ جغیرافیائی طور پر مربوط ہے مثلاً اسپین میں مراکشی عربوں کی حکومت، اٹلی پر قرطاجنہ کے ہنی بال کی ہاتھیوں پر چڑہائی اور کوہِ الپس کا عبور کرنا، اطالویوں کا لیبیا اور ایتھوپیا کو کالونی بنانا، سسلی پر مسلمانوں کی صدیوں حکومت، رومانیہ پر ترکوں کی چڑھائی۔ یہ سارے رابطے تاریخی طور پر مستند ہیں۔ اسی وجہ سے نیولاطین زبانوں میں عربی جو کہ مشرق کی ایک بڑی زبان کے اثرات واضع نظرآتے ہیں مثال کے طور پر فندق (ہوٹل) فنداکو، ال اور اِیل کا آرٹیکل، رقم کو دینارو کہنا، افریقہ سے آنے والی ہوا کو شروکو کہنا- کہا جاتا ہے کہ جب اہلِ اسلام دنیا میں علم و فن کی قندیلیں روشن کر رہے تھے تو یورپ میں یہ خطہ چونکہ اہلِ شرق سے رابطہ میں تھا تو علوم و فنون سارے کے سارے عربی سے ان ہی زبانوں میں پہلے پہل منتقل ہوئے تھے اس وقت کی مستند سائینسی اصطلاحات آج بھی ہمیں ان زبانوں میں ملتی ہیں۔ پھر حالات بدلتے ہیں اور دنیا دیکھتی ہے کہ اہلِ اسلام اپنے چھٹے فرض ‘‘ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے‘‘ کو بھول کر آج علمی فقیر ہوچکے ہیں اور اہلِ غرب کی علمی اصلا حات کو دھڑادھڑ اپنا رہے ہیں۔

2 تبصرے:

  • میرا پاکستان says:
    10/07/2005 02:29:00 AM

    اب ديکھیں يہ علمي فقير مسلمان کب دوبارہ علم کا منباہ بنتے ہيں۔ مسلمانوں ميں اگر صرف اتحاد پيدا ہو جاۓ تو يہ پھر دنيا پر راج کرسکتے ہيں۔ آپ کو پتہ ہي ہے کہ عثماني سلطنت کو ختم کرنے کے بعد اس کے دارالخلافہ کو سيکولر بنا ديا گيا ہے اور يورپ نے مسلمانوں کو ايک سازش کے تحت ہزاروں تکڑیوں ميں بانٹ ديا ہوا ہے۔ بس مسلمانوں کا شعور جاگنے کي دير ہے پھر ديکھۓ گا يہ کيسے ترقي کرتے ہيں۔ ہميں دعا کرني چاہۓ کہ اللہ ہم سب ميں اتحاد پيدا کرے۔

  • جہانزیب says:
    10/16/2005 11:57:00 AM

    مگر جناب آج کل تو اسلام اور مسلمانوں کو ہميشہ سے اجڈ ثابت کيا جا چکا ہے۔ اور ميں ماشااللہ سے اپنے مسلمان بھائی اور بہنيں بھی پيش پيش ہيں۔

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش