جمعہ, اپریل 29, 2005

کچھ حالِ دل

اگلے دن ایک کتاب پڑھ رہا تھا الکیمسٹ اب مجھ پتا نہیں کہ اسکا اردو ترجمہ ہے مگر با وثوق کہ سکتا ہوں کہ احباب کو انگلش میں مل سکے گی کیوں کہ میرے ہاتھ اٹالین میں لگی تھی اسکے مصنف ہیں پاولو کوہلو، لاطینی امریکہ کے۔ اس کتاب میں جہاں موضوعات اور کیفیات کا تنوع ہے وہاں ساری کتاب ’’ دل کی باتوں ’’ سے بھری پڑی ہے اندلس کے ایک غریب چروہے کی کہانی جسکے والدین اسے پادری بنانا چاہتے تھے مگر اسکا دل اسے دنیا دکھانے چاہتا تھا، پھر اسکا دل اسے مراکش لے گیا اور صحرا کا عبور کرتا ہوا مصر کے اہرام تک پہنچا، دوسری طرف مصنف عیسائیت اور مسلم عقاید اور اسپرانتو جیسے متنوع موضوعات پر بحث کرتا ہے مگر دل کی بات بار بار ہو رہی ہے، اور دل کی بات بھی سنی جا رہی ہے۔ محبت بھی دل کی ایک کیفیت ہے اور خوف بھی، کچھ کرنے کی خواہش بھی ایک دلی کیفیت ہے اور کسی سے بچھٹرے کا غم بھی، دولت پانے کی خوشی بھی مگر اس سے ذیادہ کسی چیز کی حسرت بھی۔ دل آخر دل ہے ایک عضو بھی اور ایک راہنما بھی۔ مگر کون ہے جو صرف دل کی ہی سنتا ہے اور اسکے پیچھے چلتا ہے؟ عام زندگی میں دیکھا گیاہے کہ میرے جیسے بہت سے لوگ کام اورکمائی میں لگے رہتے ہیں اور وقت کٹ رہا ہے، اور کچھ جو صرف دل کی سنتے ہیں، وقت صرف کمائی کے بجائے کسی دھن میں لگے رہتے ہیں، شاید دنیا کے ’’ذہینوں’’ کے بقول کسی کام کے نہیں رہتے مگر انکا نام رہ جاتا ہے۔ ذرا دیکھئے اپنے ارد گرد

1 تبصرے:

  • Hypocrisy Thy Name says:
    5/01/2005 09:09:00 AM

    بات دل کی ہے۔ ایک شعر:
    بشر راز دلی کہہ کر ذلیل و خوار ہوتا ہے
    نکل جاتی ہے خوشبو تو گل بے کار ہوتا ہے

    دل ایک ایسا عضوء ہے کہ ہر وقت پوری قوت کے ساتھ کام کرتا رہتا ہے اس وقت بھی جب باقی سب اعضاء آرام کر رہے ہوتے ہیں۔ حضرت انسان کو دیکھو جس (دل)کے پاس ایک لمحہ کی فرصت نہیں اسے کہاں کہاں پھنسا دیا ہے۔ کھانا ۔ کام۔ دوست ۔ رہائش وغیرہ کی پسند نا پسند۔ اور سب سے بڑھ کر عشق۔ دل بے چارے کا حشر نشر نہیں ہو گا تو کیا ہو گا ؟

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش