بدھ, اپریل 20, 2005

بقا اور دہشت گردی

جی یہاں انسانوں پر ظلم صرف برداشت ہی نہیں کیا جارہا بلکہ باقاعدہ ظلم منصوبہ کے تحت کیا جارہا ہے اور پھر اگر وہ جوابی کاروائی کریں تو ٹی وی پر بیان آتا ہے کہ عراقی دہشت گردی کر رہے ہیں اور ہم دہشت گردی کے خاتمہ تک جنگ جاری رکھیں گے، اٹلی میں چند ماہ پیشتر ایک جج صاحب نے دو عراقیوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمہ میں یہ فیصلہ دیا کی یہ لوگ دہشت گرد نہیں بلکہ اپنی بقا کی جنگ لڑرہے ہیں، لہذا انکو بری کیا جاتا ہے، اور مقننہ کو چاہیے کہ دہشت گردی اور جنگِ آزادی میں واضع فرق کرے۔۔ دس دن پہلے اخبار میں ایک چھوٹی سی خبر تھی کہ ان جج صاحب کے خلاف جواب طلبی کا نوٹس جاری ہو چکا ہے ’’کہ میاں ذرا بتاو تو کیوں ہمارے کام میں ٹانگ اڑا رہے ہو، جج ہو تو مقدموں کے فیصلے ہماری مرضی سے اور فائدہ کے مطابق کرو، یہ کیا ہے جو ضمیر نے کہا لکھ دیا، ایسے تو نہیں چلے گا مشٹر جج’’

4 تبصرے:

  • Hypocrisy Thy Name says:
    4/26/2005 01:02:00 PM

    آپ نے بات تو درست کی ہے مگر کون سمجھاۓ اپنے ملک کے آواد خیال لوگوں کو جن کے مطابق امریکہ کا ہر عمل ہمیں ترقی کی طرف لے جاتا ہے۔ ذرا جنرل پرویز مشرف ہی سے پوچھ کے دیکھ لیں۔

  • گمنام says:
    4/27/2005 10:26:00 PM

    Hi, I cannot read your urdu text because i see boxes instead of haroof....This doesn't happen with some of the other urdu blogs...any idea how i can fix the problem to be able to read your posts.

  • Dr. Iftikhar Raja says:
    4/27/2005 11:49:00 PM

    Hi dear, you havn't left here your ID, plz mail me and I will send you a little sofwere after instalation you will be able to see all unicode sites like, bbc.co.uk/urdu or urdulife.com

    hope to to see you soon

  • منیراحمدطاہر says:
    4/28/2005 11:04:00 PM

    بات تو آپ نے سولہ آنے صیحیح کی ہےجناب ۔ یہ تو اٹلی کی بات ہے مگر یہاں پاکستان میں بھی یہی صورتحال پیدا کی جا رہی ہے، ہمارے حکمران غیر محسوس طریقے سے ہمیں اسی طرف لئے جا رہے ہیں اور کچھ بعید نہیں چند سال بعد ہم کشمیریوں کو دہشت گرد قرار دے دیں۔

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش