منگل, اپریل 19, 2005

جوک یا جونک

انگریزی کے لفظ ’’جوک’’ سے یاد آیا کہ جب چھوٹے ہوتے تھے تو دریا میں نہانے جاتے، ادھر جونکیں ہوتی تھیں۔ اب جونک کو تو وہی جانتے ہیں جو گاوں میں رہتے ہوں اور ’’ ساون’’ میں ہماری طرح دریا میں تیراکی اور غسل فرماتے ہوں اور اگر دریا دستیاب نہ ہو تو جوہڑوں میں نہاتے پھرتے ہوں، جونک کیچوئے کی شکل کا ایک پانی میں بسنے والا نہایت بدنما کیڑا ہوتا ہے جو ادھر ادھر تیرتا پھرتا ہے اور کوئی جانور یا انسان نزدیک آئے تو اسکی جلد پر چمٹ کر خون چوسنا شروع کردیتا ہے، خیر وہ دن اور تھے اب جونک کو دیکھنے کے لیئے ضروری نہیں کہ آپ گاوں میں جائیں اور جوہڑوں میں نہاتے پھریں تاکہ جونکیں آپ کو چمٹیں اور پھر آپ انکو دیکھتے رہیں، کیونکہ جونکیں تو آجکل ملک میں ہر جگہ دستیاب ہیں، وزیروں، مشیروں اور پیروں کی ملک میں کثرت دیکھیں کیا یہ ساری جونکیں ہی نہیں جو ملک اور خزانے کا خون جوس رہی ہیں، اور دیکھنے میں بھی بدنما ہیں اور رہتے بھی گندگی اور جوہڑوں(اخلاقی) میں ہیں

1 تبصرے:

  • شعیب صفدر says:
    4/21/2005 01:03:00 PM

    جس جونک کا آپ نے ذکر کیا ہے وہ صرف گندہ خون چوستی ہے مگر یہ تو سارہ مال کھا جاتے ہیں

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش