اتوار, مارچ 27, 2005

آوّ بات کریں

آوُ بات کریں دعوتَ عام تو ہے مگر بات کرنے والا کوئی نہیں معلوم نہیں کہ اسکی وجہ عدیم الفرصتی ہے یا عدیم التوجہی، مسئلہ تو فی الحال درپیش ہے کہ بات کرنے والا کوئی نہیں تو کیا بات کی جائے، بس بات برائے بات ہی کی جا سکتی ہے اس بارے میں ہمارے دوست شاہ جی کا خیال ہے کہ بات برائے بحث تو ممکن ہے مگر بات برائے بات کی ترکیب تو سرے سے ہی غلط ہے۔ اب اپنے دوست شاہ جی کے خیال کو درست ثابت کرنے کےلیے ہم بات برائے بات کی بجائے بات برائے بحث شروع کر دیں تو لازماً پھر بحث برائے تکرار کا مرحلہ بھی آئے گا، جسکے اختتام پر سر بہ گریباں کے مناظر بھی اہلِ ذوق احباب کے دیکھنے کو مل سکتے ہیں، بحث برائے تکرار سے ایک اور شاہ جی سر سید احمد خاں کا مضمون بحث و تکرار یاد آیا جسکے کرداروں کو انہوں نے اس جانور سے تشبیہ دی تھی جسکی گھر میں موجودگی قدیم علماء کے مطابق دافع فرشتگانِ رحمت ہے جدید علماء کا اس بار ے میں کیا خیال ہے آپ مروتاً خود انسے دریافت کریں اگر انکو آپس کی بحث برائے بحث سے فرصت ملی تو۔۔۔۔۔اب ہم اپنے دوست شاہ جی کے خیالِ غیر مبارک کو سر سید احمد خاں صاحب پر ترجہیہ نہیں دیتے کہ وہ بھی قدیم ہی سہی مگر ایک شاہ ہیں۔ اب شاہ شاہوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں؟؟ جو انکی مرضی کریں چونکہ ہم شاہ نہیں ہیں لہذا اس سے قطعی دلچسپی نہیں۔ ویسے بھی بزرگ کہہ گئے ہیں کہ شاہوں، بادشاہوں کے معاملات سے عوام کو دور ہی رہنا چاہیے۔پس ہم بات برائے بحث کی بجائے بات برائے بات شروع کرتے ہیں کہ عوامی طور ہے۔ مگر کس کے ساتھ یہاں تو کوئی بات کرنے والا موجود ہی نہیں۔

4 تبصرے:

  • اشفاق says:
    3/28/2005 09:52:00 PM

    آپ کی پہلی تحریر پر عمل کرتے ہوئے، حاضر ہے ایک عدد “بلاگر“ ٹا - ٹا - ٹا - ٹاں (مسکراہٹ)
    اور یوں آپ کو بیکوقت دو فائدے حاصل ہوئے:
    ١- خودکلامی گفتگو میں بدل گئی ہے
    ٢- آپ کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے ایک شخص نے اپنی سی کوشش تو کی ہے دیکھئے اب نتائج توقع کے مطابق نکلتے ہیں یا ۔۔۔

  • گمنام says:
    4/02/2005 08:08:00 PM

    kahan gyan hainnnn? bsb pr nazar nai arahy ? mein ny email ki hai aj ... aur sunay kasay hain ?sab theek thak hai na ?




    buchee...

  • SHAPER says:
    4/19/2005 02:50:00 AM

    u used hard urdu ....sorry

  • Dr. Iftikhar Raja says:
    4/21/2005 01:36:00 PM

    hahah this is urdu-e moalla, the Ghalib's style
    Kher
    ...........

    acually I'm in try to recharge me there

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش