منگل, مارچ 08, 2005

انگلیاں شخصیت کا آئینہ ہوتی ہیں

مردوں کی انگلیوں کی لمبائی سے یہ پتہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کتنے غصے والے یا جھگڑالو ہیں ۔ کینیڈا کے سائنس دانوں نے 300 لوگوں کی انگلیوں کا جائزہ لینے کے بعد ایک جریدے بائیولوجیکل سائکلوجی کواس تحقیق کی تفصیل بتائی ہے۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ انگلیوں کی لمبائی اور مردوں کے جنسی ہارمونز کی مقدارکا براہِ راست تعلق ہے ۔ عورتوں میں عموماً درمیانی انگلیوں کو اگر ہتھیلی سے ناپا جائے تو ان کی لمبائی تقریباً برابر ہوتی ہے۔ جبکہ مردوں میں درمیانی انگلی انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی سے لمبی ہوتی ہے۔ انگلیوں کی لمبائی سے متعلق دوسرے جائزوں کے اعدادو شمار سے پتہ چلتا ہے کہ مردوں میں درمیانی انگلی کا لمبا ہونا اس بات کی سمت اشارہ کرتا ہے کہ اس طرح کے مردوں میں بچے پیدا کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ اور اگر عورتوں کی انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی لمبی ہو تو ان میں بھی بچے پیدا کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ انگلیوں کی ساخت اور لمبائی سے کسی انسان کی شخصیت کے بارے میں بھی پتہ چلتا ہے۔ ایک اور جائزے سے پتہ چلا ہے کہ جن مردوں کی درمیانی انگلی چھوٹی ہوتی ہے ان میں کم عمر میں ہی دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ ہوتا ہے اس تازہ جائزے میں ڈاکٹر پیٹر ہرڈ اور ان کے جونئیر نے اپنی یونیورسٹی کے 300 طالب علموں کی انگلیوں کا جائزہ لیا جس سے پتہ چلا کہ جن لڑکوں کی انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی چھوٹی ہے ان میں زیادہ غصہ پایا گیا۔ یہ جائزہ عورتوں پر لاگو نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر ہرڈ ہاکی کھلاڑیوں کی انگلیوں کا جائزہ لے کر اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا ان کی انگلیوں کی لمبائی اور ان کے پنالٹی ریکارڈ کے درمیان کوئی تعلق ہے۔ ڈاکٹر ہرڈ اس بات کا بھی پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جن مردوں کی انگلیوں کی ساخت نسوانی ہوتی ہے کیا وہ آسانی سے مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ انسان کی شخصیت کا زیادہ تر حصہ اس وقت نشونما پالیتا ہے جب وہ ماں کی کوکھ میں ہوتا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص کے بارے میں صرف انگلیوں کی لمبائی یا ساخت کو دیکھ کر اندازے لگانا ٹھیک نہیں ہے ۔ تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان تمام باتوں کی تصدیق کے لئے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ بشکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام

0 تبصرے:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش