جمعرات, مارچ 03, 2005

ایسا کیوں ہے؟

پتا نہیں کیوں آجکا اور ’’ گزاگ ڈاٹ کام’’ پر پہلا بلاگ لکھتے ہوئے میرے ذہن میں شاید کبھی کا عنوان آیا۔ ہاں واقع دراصل کچھ یوں ہے کہ آج شام کو چند پاکستانی دوستوں کے ساتھ مل بیٹھنے کا اتفاق ہوا ایک مقامی ’’بار’’ میں، ان میں سے چند احباب ایسے بھی تھے جن سے پہلی ملاقات تھی، اور پھر حسبِ روایت بات پہنچی تیری جوانی تک کے مصداق پاکستان کے بارے میں گفتگو چل نکلی۔ گھومتی گھامتی حالاتِ حاضرہ پر، پھر احباب لگے گیت گانے وطن کی مٹی کے، حب الوطنی کا اظہار ہونے لگا اور بیانات وطن کی ترقی کے بارے میں اور ایک عظیم قوم کے طور پر ابھرنے والی قوم جو اسلام کا قلعہ بھی ہے اور بقول خودے لیڈر بھی، ایک صاحب کہنے لگے کہ ’’ لو جی ہمارا ملک اسلام کا بازوّ شمشیر زن ہےاور قوم مجموعہ مجاہدین، جملہ احباب نے ان ساری لن ترانیوں میں باقاعدہ بلکہ بہت زورو شور سے حصہ لیا۔۔۔۔۔۔۔۔ بات سے بات نکلتی رہی اور موضوع بدلتا رہا۔۔۔۔۔۔ ایک صاحب جو نے بڑے فخر سے بتایا کہ کل ہی اسکا بھائی پاکستان سے آیا ہے اور بتا رہے تھا کہ وہاں پر بہت ترقی ہو رہی ہے، گلیاں نالیان، پل سڑکیں سب نئی بن چکی ہیں اور جو رہ گئی ہیں وہ بھی بہت تیزی سے بنائی جا رہی ہیں اور تو اور ان پر چلنے کو گاڑیاں بھی نئی ’’کرولا ٹو ڈی’’ کی بھرمار ہو چکی ہے، پھر بتانے لگے کہ وہ بھائی سیر کو نہیں آیا بلکہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے مبلغ بارہ لاکھ روپیہ ایجینٹ کو دے کر ’’ اللہ کی وسیع زمین پر پھیلے ہوئے رزق کی تلاش میں آیا ہے اور اب یار دھیان میں رکھیو اگر کوئی کام ہاتھ آئے تو بتانا بڑی مجبوری ہے کچھ پیسے ادھار پکڑے تھے، پھر بات چل نکلی کے آخر ہمار ے ملک پر کون سی آفت آنے والی ہے کہ لوگ یوں ملک چھوڑ کر بھاگنے کو ہیں گویا ’’سڑے ہوئے گاوں میں سے جوگی’’ ، یا آندھی سے پہلے گھنسلوں کو اڑتے ہوئے کوئے، مجھے یاد آیا کہپچھلے سال اگست میں جب پاکستان تھا تو ہمارے جاننے والی ایک نہایت ہی محترم خاتون بڑی شفقت سے پوچھنے لگیں ’’ پترا کو ویزے بھی لیایا ہیں؟؟’’ نہیں خالہ، اچھا بیٹا ہمارے ’’ طارق’’ کا خیال رکھنا۔ ہمارا جی چاہتا ہے کہ وہ بھی تیری طرح باہر چلا جائے، ’’ مگر کیوں خالہ ابھی اسکی عمر ہی کیا ہے اور پھر ابھی وہ زیرِ تعلیم بھی ہے اسے کم سے کم اپنی تعلیم تو مکمل کرنے دیں، خالا کہنے لگیں’’ بس بیٹا بات تو تیری ٹھیک ہے مگر ادھر کے حالات بھی تو تجھے پتا ہیں، چوریاں ڈاکے ، قتل، اغوا، مقدمہ بازی۔۔۔۔ بس سب دیکھ دیکھ کے ڈر سا لگتا ہے، چلو باہر ہوگا تو نظروں سے تو اوجھل رہے گا، اللہ میرے بچے کو اپنی حفاظت میں رکھیو۔۔۔۔۔۔۔۔

1 تبصرے:

  • iCheetah says:
    3/05/2005 05:29:00 AM

    بہت زبردست ڈاکٹر صاحب
    آپ تو چھا گئے ۔ کافی پپو بلاگ بنایا ہے ۔ آپ کی تحریریں مجھے شروع ہی سے پسند ہیں ۔ لہٰذا لکھتے رہیے گا ۔ ایک بات بتائیے ، مٹھائی اگست میں ہی کیوں؟ اتنی دیر پڑے پڑے تو وہ باسی ہو جائے گی ۔ اور کچھ تجاویز تھیں ، اگر قبول فرمایا جائے تو ذرہ نوازی ہوگی
    پوسٹ کے ٹائٹل یعنی عنوان کا فونٹ بدل دیجیے، موجودہ فونٹ میں اردو درست دکھائی نہیں دے رہی ۔ آپ کو template میں تبدیلی کرنی پڑے گی ۔
    تحریر کا سائز شاید small ہے ، اگر اسے normal کر دیا جائے تو میرا خیال ہے کہ اردو زیادہ واضح ہوگی ۔
    comments یعنی تبصرے کرنے کی ہر شخص کو اجازت ہونی چاہیے ۔ فی الحال صرف بلاگر کے ارکان ہی تبصرے کر سکتے ہیں اور دوسرے اشخاص کو رائے دینے میں دشواری ہے ، جیسا کہ بچی نے بیان کیا ہے ۔ لہٰذا سیٹنگ میں جاکر اسے تبدیل کر دیجیے تو اچھا ہوگا ۔ تاکہ ہر شخص کو اپنی رائے دینے میں آسانی ہو ۔
    اللہ حافظ

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش